Friday, 23 October 2026, 03:36:22 am
 
وفاقی حکومت خیبر پختونخوا کے عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے شبانہ روز کام کرے گی، وزیراعظم
October 22, 2026

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وفاقی حکومت، عسکری قیادت کے تعاون سے خیبر پختونخوا کے عوام کو درپیش مسائل حل کرنے کے لیے شبانہ روز کام کرے گی۔

انہوں نے پشاور میں وفاقی ایپکس کمیٹی کے اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت خیبر پختونخوا میں خوشحالی، امن اور ترقی کا دور واپس لائے گی۔

انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ صوبے کے عوام کی خوشحالی کے خواب کو حقیقت میں بدلا جائے گا۔

وفاقی ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں خیبر پختونخوا میں سکیورٹی کی مجموعی صورتِ حال اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

وزیراعظم نے خیبر پختونخوا میں درپیش مشکلات اجاگر کرتے ہوئے امن کی بحالی اور ترقی کی ضرورت پر زور دیا۔

وزیراعظم نے ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے اسباب کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ کئی برسوں کے حالات سے خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتِ حال کو شدید نقصان پہنچا۔

انہوں نے کہا کہ ان حالات کے تناظر میں حکومت کے پاس صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔

وزیراعظم نے سکیورٹی فورسز کو شاندار خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ بہادر مسلح افواج اور سکیورٹی اداروں نے خیبر پختونخوا سمیت ملک بھر سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بے مثال قربانیاں دیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران تقریباً 80 ہزار افراد شہید ہوئے، جبکہ ملک کو اربوں ڈالر کے معاشی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں امن بحال ہونے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے دور میں دہشت گردوں کو دوبارہ آباد کیا گیا، جس سے بہادر سکیورٹی فورسز اور عوام کی بے مثال قربانیاں ضائع ہوئیں اور صوبے کے عوام کو اس کے نتائج بھگتنا پڑے۔

وزیراعظم نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت کے دور میں تعلیم، صحت اور سکیورٹی سمیت عوامی فلاح و بہبود کے شعبوں کو نظر انداز کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ان ترقیاتی منصوبوں کو نظر انداز کرنے سے بڑھ کر مجرمانہ غفلت اور بے حسی کی کوئی مثال نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ اس کے نتیجے میں حالیہ برسوں کے دوران دہشت گردی میں ایک بار پھر شدت آئی۔

شہباز شریف نے کہا کہ گزشتہ اڑھائی سال کے دوران حکومت نے قومی معیشت کی بحالی کے لیے انتھک محنت کی اور ملک کی سیاسی و عسکری قیادت کی مسلسل کوششوں کے باعث اب ملکی معیشت مستحکم ہو چکی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ مختلف شعبوں کے قابل اور دیانتدار ماہرین پر مشتمل ایک مشاورتی کونسل قائم کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تبدیلی کے مثبت نتائج یقینی بنانا ضروری ہے۔

انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور ایپکس کمیٹی کے ارکان کے اجتماعی تعاون سے سکیورٹی کی صورتِ حال سمیت مجموعی حالات میں بہتری آئے گی۔

شہباز شریف نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں کیے گئے اقدامات قانون اور آئین کے عین مطابق ہیں۔ انہوں نے اس فیصلے کے حوالے سے تعاون پر تمام اتحادی جماعتوں کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے اس سلسلے میں بالخصوص صدر آصف علی زرداری اور مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف سے بھی اظہارِ تشکر کیا۔

وفاقی ایپکس کمیٹی کے اجلاس کے دوران وزیراعظم کو خیبر پختونخوا کے بارہ اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

اس موقع پر گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبے میں پائیدار امن اور استحکام کے قیام کے لیے وفاق کے تعاون کو ناگزیر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر تمام اداروں کا یکساں موقف ہو تو امن اور ترقی کا عمل کبھی متاثر نہیں ہو سکتا۔

گورنر نے عزم ظاہر کیا کہ صوبے میں دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور معاونین کا خاتمہ اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے خیبر پختونخوا میں امن و استحکام کے لیے تعاون کرنے پر وفاقی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔

وفاقی ایپکس کمیٹی کے خصوصی اجلاس میں خیبر پختونخوا میں امن کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہدا کو شاندار خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔