Friday, 17 August 2018, 11:31:21 pm
افراط زرکی شرح 11 فیصد سے کم ہو کر 4 فیصد سے نیچے آگئی ہے،مشیر خزانہ
April 16, 2018

 مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ پاکستان نے گزشتہ پانچ سال کے دوران اقتصادی شعبے میں بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

انہوں نے یہ بات پیر کے روز اسلام آباد میں ''پاکستان سرمایہ کاروں کیلئے جنت'' کے موضوع پر ایک گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ معیشت اور ٹیکسوں کے شعبے میں اگر حکومت کی موجودہ پالیسیاں اور اصلاحات جاری رہیں تو پاکستان کی معیشت میں سالانہ دس فیصد کی شرح سے ترقی کرنے کی صلاحیت ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجموعی قومی پیداوار کی شرح نمو 5.8 فیصد پر جا رہی ہے جو مالی سال 2017-18ء کے ہدف چھ فیصد سے بہت قریب ہے۔

گزشتہ پانچ سال میں حکومت کی کامیابیوں کے بارے میں مشیر نے کہا کہ افراط زر کی شرح گیارہ فیصد سے کم ہو کر چار فیصد سے نیچے آگئی ہے جبکہ توانائی کا بحران بڑی حد تک حل کرلیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مقامی صنعت کو عالمی منڈی سے مسابقت اور مزید براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کیلئے کاروبار شروع کرنے کی لاگت کم کرنے کی ضرورت ہے۔

وزیراعظم کے اعلان کردہ اقتصادی اصلاحات پیکج پر روشنی ڈالتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہا کہ حکومت نے بالخصوص تنخواہ دار طبقے کیلئے خصوصی ٹیکس ریلیف کا اعلان کیا ہے جو سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرنے والا طبقہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگلے مالی سال سے ایسے ملازمین جن کی تنخواہ ایک لاکھ روپے ماہانہ سے کم ہوگی ٹیکس کی ادائیگی سے مستثنیٰ ہوں گے کیونکہ ہم نے ٹیکس کی حد چالیس ہزار روپے ماہانہ سے بڑھا کر ایک لاکھ روپے کردی ہے۔

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نادرا کی مدد سے دولت مند لوگوں کی شناخت کرکے انہیں ٹیکس کے دائرے میں لائے گا ۔ نادرا کے ذریعے ہم دولت مند لوگوں کو ٹیکس کے دائرے میں لانے کیلئے ان کا نام اور ڈیٹا ایف بی آر کو دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں انتہائی اہم اصلاحات کی گئی ہیں اور نئی پالیسی کے مطابق کوئی گوشوارے جمع نہ کرانے والا رئیل اسٹیٹ کی جائیداد نہیں خرید سکے گا۔

بعد میں ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہا کہ وزیراعظم نے خاص طور پر انہیں 2018-19ء کے بجٹ میں سرکاری ملازمین اور پنشنروں کیلئے خصوصی پیکج کا اعلان کرنے کی ہدایت کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ افراط زر کی شرح پانچ فیصد سے کم ہے لیکن حکومت ملازمین اور پنشنرز کو مزید ریلیف دے گی۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے قومی سلامتی کے مشیر ناصر خان جنجوعہ نے کہا کہ پاکستان دنیا میں امن کیلئے سب سے زیادہ کوششیں کرنے والا ملک ہے۔

پاکستان کو مواقع کی سرزمین قرار دیتے ہوئے ناصر جنجوعہ نے کہا کہ ملک نہ صرف سرمایہ کاری بلکہ دیگر بہت سے شعبوں کیلئے بھی جنت ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو چین پاکستان اقتصادی راہداری سے کہیں آگے بڑھنے اور بہت بڑی تجارتی راہداری بننے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اقتصادی مواقع ، صلاحیت اور روابط، تعاون اور مقابلے کی گنجائش ہے اور یہاں شراکت داری کیلئے اقتصادی ماحول موجود ہے۔

قومی سلامتی کے مشیر نے کہاکہ ایشیائی خطہ انسانی اور معدنی وسائل کے ساتھ پوری دنیا کیلئے رابطے کا مرکز ہے۔

سرمایہ کاری بورڈ کے چیئرمین نعیم زمیندار نے کہا کہ پاکستان میں کاروبار شروع کرنے کیلئے وقت اور مطلوبہ لاگت جنوب ایشیاء کے زیادہ تر ملکوں سے نسبتاً بہتر اور کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقت کے ساتھ ساتھ غیر ملکی سرمایہ کاری آسان اور حالیہ برسوں میں ارزاں ہوگئی ہے اور حکومت کی مسلسل کوششوں کے ثمرات آنا شروع ہوگئے ہیں۔

اس موقع پر چین کے سفیر یائو جنگ نے کہا کہ پاکستان نجکاری اور تجارت کو آزاد بنانے کی پالیسیوں پر عملدرآمد کررہا ہے اور اس نے اقتصادی ترقی تیز کرنے کیلئے متعدد ڈھانچہ جاتی اصلاحات کی ہیں۔

ترکی کے سفیر احسان مصطفی نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں انہوں نے کہا کہ ملک کے اقتصادی اشاریے بہتری کی طرف گامزن ہیں اور بڑے پیمانے پر مزید سرمایہ کاری متوقع ہے۔

انہوں نے کہاکہ بڑی افرادی قوت اور موثر اقتصادی پالیسیوں کے باعث پاکستان معاشی اہداف کے حصول کی راہ پر گامزن ہے۔

آذربائیجان کے سفیر علی علی زادہ نے کہا کہ پاکستان اور آذربائیجان دیرینہ شراکت دار اور تزویراتی اتحادی ہیں انہوں نے کہا دونوں ملکوں نے توانائی سمیت مختلف شعبوں میں معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔