Thursday, 19 September 2019, 04:57:51 am
دی بیلٹ اینڈروڈسےمتعلق عالمی تعاون کےدوسرے اعلی سطحی فورم کی افتتاحی تقریب سےچینی صدر کا کلیدی خطاب
April 26, 2019

چھبیس اپریل کی صبح دی بیلٹ اینڈ روڈ  کے حوالے سے عالمی تعاون کے دوسرے اعلی سطحی فورم کی افتتاحی تقریب بیجنگ میں منعقد ہوئی۔ چین کے صدر مملکت شی جن پھنگ  نے "بہتر مستقبل کے لیے دی بیلٹ اینڈ  روڈ کو  مل کر تعمیر  کیا جائے" کے عنوان سے تقریر کی. انہوں نے کہا کہ "دی بیلٹ اینڈ  روڈ" کا مقصد انٹرکنکشن اور باہمی تعاون کے ذریعےمشترکہ ترقی ہے. تمام فریقین کی مشترکہ کوششوں کی بنا پرپہلے فورم سےحاصل کردہ نتائج  کو کامیابی سے نافذ کیا گیا ہے۔ اس وقت تک چین نے ایک سو پچاس سے زیادہ ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ "دی بیلٹ اینڈ  روڈ"  کے حوالے سے تعاون کے معاہدوں  پر دستخط کیے ہیں. "دی بیلٹ اینڈ  روڈ انیشئیٹو" کو اقوام متحدہ سمیت عالمی تنظیموں اور مختلف ممالک کی ترقیاتی حکمت عملی اور تعاون کے منصوبوں سے منسلک کیا گیا ہے،جس کی وجہ سے  عالمی اقتصادی ترقی اور خود چین کو ترقی کے لیے نئی گنجائش اور نئےمواقع میسر ہو رہےہیں.

انہوں نے کہا کہ "دی بیلٹ اینڈ روڈ "کی مشترکہ تعمیر کو  اعلیٰ معیار کی 

ترقی کی سمت پر آگے بڑھانے کے لیے جامع مشاورت، تعمیری شراکت اور مشترکہ مفادات کے اصول پر ثابت قدم رہنا چاہیئے،کھلے پن ،ماحول دوستی اور ایمانداری کے تصورات پر قائم رہنا چاہیئے اور اعلیٰ معیار،عوامی زندگی کے لیے سودمند اور پائیدار مقاصد کی تکمیل کے لیے کوشش کی جانی چاہیئے۔  شی جن پھنگ نے پرزور الفاظ میں کہا کہ "دی بیلٹ اینڈ روڈ"کی اعلیٰ معیار کی ترقی کو فروغ دینے کے عمل میں کوئی خصوصی حلقہ بندی نہیں ہوگی۔ تمام تعاون صاف شفاف ہوگا اور بد عنوانی کو پوری طاقت سے روکا جائے  گا۔منصوبوں کی تعمیر ، آپریشن ، خریداری اور بولی لگانے کا عمل،عمومی بین الاقوامی اصول و ضوابط اور عالمی معیار کے مطابق جاری ہوگا۔اس کے ساتھ ساتھ مختلف ممالک کے  قوانین و ضوابط کا احترام کیا جائے گا اور تجارتی اور مالیاتی تسلسل کو یقینی بنایا جائے گا۔

شی جن پھنگ نے  کہا کہ دی بیلٹ اینڈ روڈ کی مشترکہ تعمیر میں انٹرکنکشن کلیدی اہمیت کاحامل ہے۔دنیا بھر میں انٹرکنکشن کے شراکت داری تعلقات بناتے ہوئے مشترکہ خوشحالی کو عمل میں لایا جانا چاہیئے۔انہوں نے کہا کہ چین مختلف فریقین کے ساتھ مل کر انٹرکنکشن نیٹ ورک قائم کرنے کی کوشش کرے گا اور "دی بیلٹ اینڈ روڈ " کی مشترکہ تعمیر سے وابستہ قرض اور شاہراہ ریشم فنڈز سمیت مختلف فنڈز سے فائدہ اٹھا کر ایک کثیرالجہت ترقیاتی مالیاتی تعاون مرکز کی حمایت کرے گا۔چین دی بیلٹ اینڈ روڈ کے لیے سرمایہ کاری لگانے میں کثیرالجہت مالیاتی اداروں نیز مختلف ممالک کے مالیاتی اداروں کا خیرمقدم کرتاہے اور اس کے ساتھ ساتھ تیسری فریقی مارکیٹ کے ساتھ تعاون کی بھی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔

چینی صدر نے کہا کہ چین مزید ممالک کے ساتھ اعلی معیار کے حامل آزاد تجارتی معاہدوں پر دستخط کرے گا۔ کسٹم ،ٹیکس اور آڈٹ نگرانی سمیت دیگر شعبوں کے تعاون کو مضبوط بنایا جائے گا۔"دی بیلٹ اینڈ روڈ" کے ٹیکس جمع کرنے اور انتظامی اعتبار سے تعاون کے نظام کی تشکیل کی جائے گی۔" مصدقہ آپریٹر" کے عالمی سطح پر ایک دوسرے کی تصدیق کرنے کے تعاون کو تیز  کیا جائے گا۔تخلیقات کے ذریعے ڈیجیٹل اور تخلیقی شاہراہ ریشم کی تعمیر کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ پانچ سالوں میں پانچ ہزار چینی و غیر ملکی ہنر مند اور تخلیقی صلاحیت کے حامل افراد کے تبادلوں ،تربیت ،تعاون اور ریسرچ کی حمایت کی جائے گی۔ مختلف ممالک کے کاروباری اداروں کے تعاون کے ذریعے انفارمیشن مواصلات کی بنیادی تنصیبات کی تعمیر کو فروغ دیا جائے گا۔ نیٹ ورک انٹر کنکشن کے معیار کو بلند کیا جائے گا۔

شی جن پھنگ نے کہا کہ غیرمتوازن ترقی دنیا بھر میں سب سے بڑا عدم توازن ہے۔انہوں نے کہا کہ مختلف فریقین کو دی بیلٹ اینڈ روڈ کی مشترکہ تعمیر کے عمل میں، پائیدار ترقی کے تصور کی روشنی میں منصوبوں کا انتخاب ، عمل درآمد اور انتظام کرنا چاہیئے، بین الاقوامی ترقیاتی تعاون کی کوشش کرنی چاہیئے اور ترقی پذیر ممالک کے لیے ترقی کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنے چاہئیں تاکہ غربت کے خاتمے اور پائیدار ترقی پر عمل درآمد میں ان کی مدد کی جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ مختلف فریقوں کو ترقیاتی شعبے میں اقوام متحدہ کے ساتھ تعاون کو مضبوط بنانا چاہیئے اور غیرمتوازن ترقی کو ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔

چینی صدر مملکت شی جن پھنگ نے کہا کہ مزید اعلی سطح کے کھلےپن کی ترقی کے لیے چین نظام اور بنیادی ڈھانچے کے طریقہ کار کو مزید مضبوط بنائے گا اور اصلاحات اورکھلےپن کے حوالے سے سلسلہ وار اقدامات اختیار کرے گا۔ ان اقدامات میں غیرملکی سرمایہ کاری کی منڈی تک رسائی کو وسعت دینا  ، علمی اثاثوں کے حقوق کے تحفظ کے بارے میں عالمی تعاون کو مضبوط بنانا ، سازوسامان اور سروس کی درآمدات میں اضافہ کرنا ،بین الاقوامی میکرو اقتصادی پالیسی میں تعاون پر  زیادہ موئثر عمل درآمد کرنا اور کھلے پن کی پالیسی پرعمل درآمد کرنےکی صورت حال پر توجہ دینا شامل ہے ۔   

جانب  شی جن پھنگ نے کہا کہ چین مستقبل میں منفی فہرست کو بڑے پیمانے پر کم کرے گا تاکہ جدید سروس پر مشتمل صنعت،  مینوفیکچرنگ اور زراعت کے شعبوں میں کھلے پن کو وسعت دی جائے اور زیادہ شعبوں میں غیرملکی سرمایہ کاری کی شیئر ہولڈنگ اور واحد ملکیت رکھنے کی اجازت دی جائے۔انہوں نے کہا کہ چین نئی آزاد تجارتی زونز قائم کرے گا ، آزاد تجارتی بندرگاہوں کی تعمیر کو تیز کرنے کی کوشش کرے گا ،ان سے وابستہ قوانین و ضوابط بنائے گا اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے حوالے سے قانون پر عمل درآمد کو یقینی بنائے گا۔

چینی صدر نے  کہا کہ علمی اثاثہ جات کے تحفظ پر بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے، چین کاروباری ماحول کو بہتر سے بہتر بنائے گا،  علمی جائیداد کے تحفظ کے لیے قانونی نظام کو بہتر  بنائےگا ، ، قانون نافذ کرنے کی سرگرمیوں کو مضبوط کرے گا، غیر ملکی دانشورانہ ملکیت کے جائز حقوق اور مفادات کاتحفظ کرے گا ، ٹیکنالوجی کی جبری منتقلی کو ترک کرےگا، تجارتی رازوں کی حفاظت پر زور دے گا اور  علمی حقوق  کی خلاف ورزیوں پر قانون کے مطابق کاری ضرب لگائےگا. چین مارکیٹ کے اصولوں اور متعلقہ قوانین و ضوابط کی بنیاد  پر مبنی بین الاقوامی تکنیکی تبادلوں اور  تعاون کو فروغ دے گا.

شی جن پھنگ نے کہا کہ چین محصولات کو مزید کم کرے گا ،مختلف قسم  کی غیر ٹیرف رکاوٹوں کو ختم کر کے چینی مارکیٹ کے دروازے مزید کھولے  گا اور دنیا کے مختلف ممالک کی اعلیٰ معیار  کی مصنوعات کا خیرمقدم کرے گا۔ شی جن پھنگ نے کہا کہ چین تجارتی منافع کے لیے خاص جستجو نہیں کرتا ، چین دوسرے ممالک سے اعلیٰ کوالٹی کی زرعی مصنوعات اور سروسسز کو درآمد کرنے کا خواہشمند ہے اور متوازن تجارتی ترقی کو فروغ دینے کے لیے کوشش کرے گا ۔

شی جن پھنگ نے کہا کہ میکرو پالیسی کے حوالے سے چین دوسرے ممالک کے ساتھ ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنائے گا اور عالمی معیشت کی پائیدار ، مضبوط ،متوازن اور مشترکہ ترقی کے لیے کوشش کرے گا۔  جناب شی جن پھنگ نے کہا کہ چین کبھی بھی زر مبادلہ کی ایسی شرح فرسودگی نہیں کرے گا جس سے دوسرے ممالک کونقصان پہنچے ، چین چینی یوان کے زر مبادلہ کی تشکیل کے نظام کو ببہتر بنائے گا اور چینی یوان کے شرح تبادلہ کو متوازن اور مناسب سطح پربرقرار رکھے گا ۔ اس کے علاوہ وسائل مختص کرنے میں  مارکیٹ کو مرکزی کردار دینے کی کوشش کرے گا ۔ چین عالمی تجارتی تنظیم کی اصلاحات کی حمایت کرتے ہوئے اس میں مثبت طور پر شرکت کرے گا اور دوسرے ممالک کے ساتھ مزید اعلی سطحی عالمی تجارتی اصولوں کی تعمیر کرے گا۔

چین کے صدر نے  کہا کہ چین مختلف ممالک کے ساتھ دستخط شدہ کثیرالجہت اور دو طرفہ تجارتی معاہدوں کو بڑی اہمیت دیتا ہے۔چین قانون کی حکمرانی اور دیانت داری سے حکومت کی تعمیر کو مضبوط بناتا ہے اور بین الاقوامی معاہدوں کے نفاذ کا نظام بناتا ہے۔چین کھلے پن کی توسیع کے لیے قانون و ضوابط کو بہتر بناتا ہے۔ انتظامی اجازت اور مارکیٹ کی نگرانی سمیت دیگر شعبوں میں مختلف سطحوں کی حکومتوں کے عمل کو بہتر بنا کر منصفانہ مقابلے میں رکاوٹ ڈالنے والے ضوابط کو ختم کرتا ہے اور مارکیٹ کی نوعیت، قانون کی حکمرانی اور آسانی کے حامل کاروباری ماحول کو بہتر بناتا ہے۔

صدر شی جن پھنگ نےمزید  کہا کہ چین کا کھلے پن کو وسعت دینے کا اقدام چین کی اصلاحات و ترقی کے مطابق خود کیا جانے والا انتخاب ہے۔انہوں نے مختلف ممالک سے اپیل کی کہ وہ سازگار سرمایہ کاری کے ماحول کی تشکیل کریں،چینی صنعتی و کاروباری اداروں نیز غیرممالک میں زیرتعلیم چینی طلبہ اور اسکالرز سے مساوی سلوک کریں اور ان کے معمول کے عالمی تعاون و تبادلے کے لیے منصفانہ اور دوستانہ ماحول فراہم کریں۔شی جن پھنگ نے کہا کہ ایک مزید کھلا چین دنیا کے ساتھ مزید خو ش اسلوبی سے روابط استوار کرے گا اور یوں مزید ترقی پسند اور خوشحال چین اورخوش حال دنیا کی تشکیل ہو گی۔