Wednesday, 19 September 2018, 10:00:52 pm
دہائیوں پرمبنی تعاون کے باوجود حالیہ امریکی بیانات سے پوری قوم کو دھچکا لگا ہے،آرمی چیف
January 13, 2018

 امریکہ نے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ پاکستان میں کسی یکطرفہ کارروائی پرغور نہیں کررہا ہے بلکہ وہ ان افغان شہریوں کے خلاف تعاون چاہتا ہے جو امریکہ کے خیال میں افغانستان کے خلاف پاکستانی سرزمین استعمال کرتے ہیں۔یہ بات اس ہفتے امریکی مرکزی کمان کے کمانڈرجنرل جوزف ووٹل اور ایک امریکی سنیٹر نے بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کو الگ الگ ٹیلی فون کال پرکہی ۔انہوں نے ٹوئیٹر پر صدرٹرمپ کے پیغام کے بعد پاکستان اور امریکہ کے سیکورٹی تعاون کاجائزہ لیا۔جنرل جوزف نے آرمی چیف کو سیکورٹی امداد اوراتحادی امدادی فنڈ کے حوالے سے امریکی فیصلے سے آگاہ کیا۔انہوں نے کہاکہ امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کوقدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اورتوقع رکھتا ہے کہ تعلقات میں حالیہ کشیدگی عارضی ہوگی۔انہوں نے کہاکہ امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردارکو سمجھتا ہے اوراس کا معترف ہے ۔بری فوج کے سربراہ نے کہا کہ دہائیوں پرمبنی تعاون کے باوجود حالیہ امریکی بیانات سے پوری پاکستانی قوم کو دھچکا لگا ہے اور قومی سطح پر ان جذبات کی جھلک نظر آتی ہے۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاکستان اپنے قومی مفاد کے مطابق امریکہ کی مالی امداد کے بغیر بھی انسداد دہشتگردی کی مخلصانہ کوششیں جاری رکھے گا۔بری فوج کے سربراہ نے کہا کہ پاکستان نے خطے میں بڑے پیمانے پر جاری محاذآرائی کی وجہ سے بڑا نقصان اٹھایا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ملک میں افغان شہریوں کی سرگرمیوں کے بارے میں امریکی تحفظات سے بخوبی آگاہ ہے اور ہم پہلے ہی ہر رنگ ونسل کے دہشتگردوں کی پناہ گاہوں کے خاتمے کیلئے آپریشن ردالفساد کے زریعے کثیر المقاصد کارروائیاں کررہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اس مقصد کے حصول کے لئے افغان پناہ گزنیوں کی واپسی ناگزیر ہے۔آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان اپنے طور پر سرحدی انتظامات کو بھی بہتر بنا رہاہے تاہم اگر افغانستان یہ سمجھتا ہے کہ وہ پاکستان سے متاثر ہورہا ہے تو دوطرفہ سرحدی انتظامات اس کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔جنرل باجوہ نے اعادہ کیا کہ پاکستان امداد کی بحالی نہیں چاہتا بلکہ خطے میں امن اوراستحکام کیلئے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اپنی خدمات، قربانیوں اور غیر متزلزل عزم کے قابل قدر اعتراف کی توقع کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں ہر کارروائی کا ذمہ دار ٹھہرائے جانے کے باوجود افغانستان میں امن کے لئے تمام اقدامات کی حمایت کرتا رہے گا کیونکہ افغانستان میں امن سے ہی خطے میں پائیدار امن واستحکام قائم ہوسکتا ہے۔جنرل جوزف نے پاکستان کی جانب سے بعض موثر کارروائیوں کو سراہا جس نے اس بات کو یقینی بنایا کہ افغان پناہ گزنیوں کے لئے پاکستان کی مہمان نوازی کو غلط انداز میں استعمال نہ کیا جاسکے۔جنرل جوزف نے اس بات سے اتفاق کیا کہ دونوں ملک تعاون کے ذریعے استفادہ کرسکتے ہیں۔