Thursday, 19 September 2019, 04:51:38 am
صدر نے صدارتی نظام کا امکان یکسر مسترد کردیا
May 11, 2019

صدر مملکت نے ملک میں صدارتی نظام کے امکان کو یکسر مسترد کردیا

صدر ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ ملک میں صدارتی نظام پر کوئی بحث نہیں کی جارہی، جبکہ پاکستان میں پارلیمانی نظام انتہائی  مستحکم ہے۔  ایف ایم 98 دوستی چینل کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ملک میں صدارتی نظام کے نفاذ سے بہت سے مسائل جنم لے سکتے ہیں، کیونکہ 18ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو جو اختیارات دیئے جاچکے ہیں وہ واپس نہیں لئے جاسکتے۔   صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان کا آئین پارلیمانی نظام کے اعتبار سے تشکیل دیا گیا ہے اور   پاکستان اس نظام کا عادی ہوچکا ہے۔ اسلئے صدارتی نظام کے موضوع پر بحث تو کی جاسکتی ہے لیکن اسے  نافذ کرنا  بعید از قیاس ہے۔

ملک میں جاری موجودہ معاشی بگاڑ میں بہتری کیلئے وقت درکار ہے، صدر مملکت

ایک سوال کے جواب میں صدر مملکت نے کہا کہ موجودہ اعداد و شمار کو مدنظر رکھ کر یہ کہا جاسکتا ہے کہ مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معیشت کی مخدوش صورتحال میں دوست ممالک نے پاکستان کی مدد کی ہے جن میں چین ، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔   صدر مملکت نے کہا کہ حکومت مصنوعی طریقے سے معیشت کو نہیں چلانا چاہتی، اسلئے موجودہ بگاڑ کو سدھارنے میں وقت لگے گا۔  انہوں نے کہا کہ اب ہم آئی ایم ایف سے بھی معاہدہ طے کرنے جارہے ہیں ۔  صدر مملکت نے اس بات کا بھی امکان ظاہر کیا کہ ہوسکتا ہے جب ہم اپنی معیشت کو مستحکم کریں تو ماضی کے بوجھ کی قیمت آج ادا کرنے پر مجبور ہوجائیں۔

چین میں مسلمانوں کے روزہ رکھنے پر پابندی کے حوالے سے خبروں کا  اجراء محض پروپیگنڈا ہے، صدر عارف علوی

چین کے سنکیانگ ویغور خوداختیار علاقے میں مسلمانوں کے روزہ رکھنے پر پابندی کے حوالے سے مغربی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونیوالی خبروں پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ روزہ رکھنے سے روکنا محض ایک مفروضہ ہے۔ چین ایک اہم ملک ہے جو خود محسوس کرتا ہے کہ  وہ اپنی اقلیتوں کا خیال رکھے ۔ ایسی پابندیوں کے بارے میں خبروں کا اجراء محض پروپیگنڈا ہے۔  انہوں نے کہا کہ چین اپنے اندرونی معاملات پر امن انداز میں حل کرنا چاہتا ہے اور پاکستان اس میں چین کی ہر طرح سے مدد کیلئے تیار ہے۔

چینی صدر شی چن پھنگ کی شخصیت سے بہت زیادہ متاثر ہوں، صدر عارف علوی

صدر مملکت نے کہا کہ وہ چینی صدر شی چن پھنگ سے انتہائی متاثر ہیں۔  انہوں نے کہ شی چن پھنگ ایک مدبر راہنماء ہیں۔ چین نے اپنے عوام کو اتنی آزادی فراہم کی، جسکی بدولت وہ لوگ پہلے حکومت کیلئے زرعی پیداوار میں اضافے پر مجبور تھے اب اُس زمین کے مالک بن گئے۔ صدر عارف علوی نے کہا کہ چین نے صدر شی چن پھنگ کی زیر قیادت جدید علوم میں بے انتہاء ترقی کی ہے اور موجودہ وقت میں چین کی مجموعی ترقی میں ڈیجیٹل معیشت  کا حصہ 38 فیصد ہے۔  انہوں نے کہا کہ اسکے علاوہ بدعنوانی کے خاتمے کیلئے چینی حکومت نے نقد رقوم کے لین دین میں بھی کمی کا فیصلہ کیا، جن سے نہ صرف ٹیکس کی آمدنی میں اضافہ ہوا بلکہ ملک میں کالے دھن میں بھی کمی واقع ہوئی۔   انہوں نے کہا ہے کہ اسی ترقی کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان چینی صدر شی چن پھنگ سے بہت کچھ سیکھنے کا خواہشمند ہے۔

چینی حکومت جرائم کے خاتمے کیلئے پاکستان کا ساتھ دینے پر آمادہ ہے، صدر مملکت عارف علوی

پاکستان میں گرفتار کئے گئے چینی باشندوں کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں صدر مملکت نے کہا کہ ایسے معاملات سے دونوں ممالک کی دوستی میں کوئی فرق نہیں آئے گا، کیونکہ پاکستان اور چین دونوں چاہتے ہیں کہ جرائم پیشہ افراد کا خاتمہ کیا جائے، اس لئے پاکستان کی جانب سے ایسے افراد کے خلاف اقدامات کو مفادات کا ٹکراو قرار نہیں دیا جاسکتا۔   انہوں نے کہا کہ چین کی حکومت بھی یہی چاہتی ہے کہ ایسے جرائم نہ ہوں، اسلئے وہ بھی جرائم کے خاتمے کیلئے پاکستان کا ساتھ دینے پر آمادہ ہے۔

چین کی دوستی معاشرت اور معیشت کے حوالے سے خوش آئند ہے، صدر عارف علوی

عوامی جمہوریہ چین کے قیام کے 70 سال مکمل ہونے پر اپنے پیغام میں صدر عارف علوی نے کہا کہ  چین نے جس طرح دوستی کی قدر کی یہ معاشرے کے اعتبار سے بھی اچھا ہے اور معیشت کے حوالے سے بھی خوش آئند ہے۔   انہوں نے کہا کہ چین اور پاکستان نے اپنی مثالی دوستی سے یہ ثابت کیا کہ دوستی کی اہمیت لین دین سے ہٹ کر کہیں زیادہ ہے۔

چائنہ میڈیا گروپ معاشرے کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، صدر عارف علوی

صدر عارف علوی نے کہا کہ چائنہ میڈیا گروپ اور پاکستانی ذرائع عامہ کے ادارے معاشرے کی تعمیر اور اچھائی کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے پیمرا کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ اس ضمن میں نمایاں کردار ادا کرنیوالے اداروں کو خصوصی ایوارڈز دیئے جائیں۔ صدر عارف علوی نے کہا کہ کوئی ایک راہنماء قوم نہیں بناتا، بلکہ  قوم  اپنے تجربے اور وراثت سے بنتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم افغان مہاجرین کی ایک بہت بڑی تعداد کو خوش آمدید کہنے سے بنی ہے، جبکہ دنیا کے کسی دوسرے ملک میں چند پناہ گزینوں کے آنے سے وہاں دیواریں کھڑی کردی جاتی ہیں۔   صدر مملکت نے کہا کہ پاکستانی قوم دہشتگردی اور انتہاء پسندی کا مقابلہ کر کے بنی ہے۔  اسلئے اب یہ قوم ہر اعتبار سے تیار ہے اور دنیا کی تیز رفتار ترقی میں نمایاں کردار ادا کرسکتی ہے۔

موجود دور میں ریڈیو کی افادیت اپنی جگہ پر انتہائی مستحکم ہے، صدر عارف علوی

موجود دور میں ریڈیو کی اہمیت کے حوالے سے صدر مملکت نے کہا کہ ریڈیو کی افادیت اپنی جگہ پر انتہائی مستحکم ہے۔  انہوں نے کہا کہ سائنس کے شعبے میں تیز رفتار ترقی کی وجہ سے پرنٹ میڈیا کی مقبولیت میں کمی آچکی ہے، کیونکہ ریڈیو، ٹیلی وژن اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس 24 گھنٹے عوام کو تازہ ترین معلومات فراہم کرتی ہیں، جبکہ ریڈیو اور انٹرنیٹ پر شائع ہونیوالی خبروں کو ٹی وی چینلز پر بھی خصوصی اہمیت دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی دنیا میں بھی ریڈیو انتہائی مقبول ذریعہ ہے، جبکہ پاکستان میں ریڈیو سننا قدیم روایات کا حصہ رہا ہے۔

چینی صنعتوں کے پاکستان آنے سے مقامی صنعتکاروں کو خائف نہیں ہونا چاہیئے، صدر عارف علوی

سی پیک کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ چین اور پاکستان کے مابین تجارت قدیم زمانے سے جاری ہے۔    انہوں نے کہا کہ سی پیک کی افادیت اس حوالے سے خصوصی اہمیت کی حامل ہے کہ چین کے مغربی علاقوں میں تیار کی جانیوالی مصنوعات  کو سمندر کے راستے دنیا کے دیگر ممالک تک پہنچایا جاسکے۔ اس مقصد کیلئے چین کے مشرقی سمندر کے بجائے پاکستان کا آسان راستہ اختیار کیا گیا ہے۔ اسکے علاوہ دنیا بھر میں تجارتی شاہراہیں اور راہداریاں  علاقائی ترقی میں  اہم کردار ادا کرتی ہیں۔  چینی صنعتوں کے پاکستان میں آنے سے مقامی صنعتوں کو خائف نہیں ہونا چاہیئے، کیونکہ پاکستان میں صرف وہی صنعتیں قائم کی جائیں گی جن کی یہاں قلت ہے۔   اسکے علاوہ کوشش یہی ہوگی کہ ان صنعتوں کے ذریعے پاکستان کی مقامی مصنوعات میں بہتری لائی جاسکے۔

گوادر کی بندرگاہ سے وسطی ایشیائی ریاستوں اور افغانستان کی جنوبی ممالک تک رسائی میں مدد حاصل ہوگی، صدر مملکت

گوادر کی بندرگاہ کے حوالے سے دیگر ممالک کے تحفظات پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے صدر عارف علوی نے  کہا کہ اس بندرگاہ کی بدولت وسطی ایشیائی ریاستوں اور افغانستان کی جنوبی ممالک تک رسائی میں مدد حاصل ہوگی۔ اسکے علاوہ افغانستان میں قیام امن کے بعد اس کی تعمیر نو اور ترقی میں چین اور پاکستان سی پیک کی بدولت اہم اور بنیادی کردار ادا کرسکیں گے۔  

خطے میں قیام امن کے حوالے سے چین اور روس کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے، صدر عارف علوی

پاکستان کی موجودہ خارجہ پالیسی  کے تحت مسئلہ کشمیر  اور خطے کے دیگر مسائل حل کرنے کیلئے چین اور روس کی مدد حاصل کرنے کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال پر صدر مملکت نے کہا کہ  خطے میں امن کے حوالے سے چین کا کردار انتہائی اہم رہا ہے۔  انہوں نے کہا کہ چین اور پاکستان دونوں اس امر پر متفق ہیں کہ خطے میں قیام امن ہی کے ذریعے یہاں کے عوام کی پریشانیوں اور غربت میں کمی لائی جاسکتی ہے، جبکہ امن کی صورت میں یہاں صحت اور تعلیم پر بھی خصوصی توجہ دی جاسکے گی۔  تاہم انہوں نے کہا کہ بھارت اپنے اندرونی سیاسی حالات  کے باعث مذہبی انتہاء پسندی کی جانب بڑھ رہا ہے۔  صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان ان مسائل کا سامنا کرنے اور بہت کچھ سیکھنے کے بعد آگے بڑھ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتہاء پسندی کو انتخابات تک محدود کرنے کے بعد ختم نہیں کیا جاسکتا، بلکہ اسکے خاتمے کیلئے 20 سے 30 سال تک کا عرصہ درکار ہوتا ہے۔  صدر عارف علوی نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ بھارت مذہبی انتہاء پسندی کے بجائے امن کی طرف قدم بڑھائے اور مسئلہ کشمیر کو حل کرے، تاکہ وہاں غربت، بیروزگاری، خواندگی اور صحت کے فقدان پر توجہ دی جاسکے۔