Thursday, 15 April 2021, 06:56:47 pm
پاکستان شمال جنوب گیس پائپ لائن منصوبے کو جلد پایہ تکمیل تک پہنچانے کا خواہاں
April 07, 2021

وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان شمال جنوب گیس پائپ لائن منصوبے پر تیزی سے کام کر کے اسے جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچانا چاہتا ہے۔روس کے وزیر خارجہ سرگئی لیوروف سے گفتگو کرتے ہوئے جنہو ں نے بدھ کے روز ان سے اسلام آباد میں ملاقات کی وزیراعظم نے دو طرفہ تعلقات تجارت، توانائی، سکیورٹی اور دفاع میں مثبت ترقی پر اطمینان کا اظہار کیا۔توانائی، صنعتی جدت ریلویز اور ہوابازی کے شعبوں میں دو طرفہ تعاون بڑھانے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ اس سال کے آخر میں ماسکو میں بین الحکومتی کمیشن میں اس سلسلے میں تجاویز اور منصوبوں پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔کرونا وائرس کے نتیجے میں صحت اور معیشت کو درپیش چیلنجز پر بھی بات چیت کی گئی۔وزیراعظم نے علاقائی تناظر میں افغانستان میں مذاکراتی سیاسی تصفیے کی اہمیت پر زور دیا۔بھارت کے زیر قبضہ جموںو کشمیر کی صورتحال کے تناظر میں وزیراعظم نے جنوب ایشیاء میں امن وسلامتی کے امور پر پاکستان کاموقف پیش کیااور تنازعے کے پر امن حل کی ضرورت پر زور دیا۔وزیراعظم نے اس موقع پر صدر پوٹن کو دورہ پاکستان کی بھی دعوت دی ۔روسی وزیر خارجہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ پاکستان روس کو خطے میں استحکام میں اہم عنصر سمجھتا ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اپنی توانائی کی ضروریات کے تناظر میں پاکستان روس سے بہت فائدہ حاصل کر سکتا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے پاس پاک روس سلامتی مذاکرات کے فریم ورک کے اندر تعاون کی گنجائش موجود ہے انھوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کا اعتراف کرنے پر روسی وزیر خارجہ کا شکریہ ادا کیا ۔وزیر خارجہ نے اپنے روسی ہم منصب کو بھارت کے ساتھ پاکستان کی سرحد پر صورتحال کے بارے میں بتایا ۔اُنہوں نے یقین ظاہر کیا کہ روسی وزیر خارجہ کا دورہ دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور اعلیٰ سطح کے تعلقات کو مزید مستحکم کرے گا۔ایک سوال کے جواب میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان نے کورونا وائرس کی روسی ویکسین SPUTNIKکو رجسٹرڈ کیا ہے جس کے اچھے نتائج سامنے آرہے ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ پاکستان ویکسین کی مقامی سطح پر تیاری کے لیے روس کے ساتھ اشتراک عمل کا خواہاں ہے۔روسی وزیر خارجہ نے کہا اُنکی حکومت نے پاکستان کو ویکسین کی پچاس ہزار خوراکیں مہیا کی ہیں اور ڈیڑھ لاکھ خوراکیں مزید فراہم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

Error
Whoops, looks like something went wrong.