Wednesday, 21 October 2026, 03:57:45 am
 
قومی اسمبلی کو آج بتایا گیا کہ بلوچستان میں منصوبوں کیلئے ترقیاتی بجٹ میں دوسوارب روپے مختص کئے گئے ہیں
October 20, 2026

(Photo: NA Speaker Ayaz Sadiq)

منصوبہ بندی و ترقی کے وزیر احسن اقبال نے کہا ہے کہ حکومت بلوچستان کی ترقی کو ترجیح دے رہی ہے۔

انہوں نے آج قومی اسمبلی میں مختلف ارکان کی جانب سے اٹھائے گئے نکات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں منصوبوں کیلئے ترقیاتی بجٹ میں دو سو ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جو کسی بھی صوبے کیلئے سب سے زیادہ رقم ہے۔

وزیر منصوبہ بندی نے اعلان کیا کہ پروگرام کے دوسرے مرحلے کے تحت بلوچستان اور قبائلی اضلاع کے طلبہ کو مزید پانچ ہزار وظائف دیے جائیں گے، جس سے وہ بہترین جامعات میں تعلیم حاصل کر سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پسماندگی ختم کرنے کیلئے تعلیم کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔

احسن اقبال نے ایوان کو بتایا کہ حکومت قبائلی اضلاع میں شمسی توانائی کا منصوبہ بھی شروع کرے گی اور ان علاقوں کے نوجوانوں کو ڈیجیٹل مہارت سے آراستہ کرنے کیلئے بھی ایک پروگرام شروع کیا جائے گا۔

وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے ایک توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اوگرا شفاف طریقہ کار کے تحت عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کی سات روزہ اوسط کی بنیاد پر ایندھن کی قیمتوں کا تعین کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر ریفائنریز نے گزشتہ روز اپنا مجموعی ریفائننگ مارجن کم کیا، جس کے نتیجے میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی ہوئی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ کی آپریشنل کارکردگی بہتر بنانے کے لیے اس کی تنظیم نو بھی کی جا رہی ہے۔

شرمیلا فاروقی کی جانب سے اٹھائے گئے ایک نقطہ اعتراض کا جواب دیتے ہوئے خزانے کے وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے کہا کہ برآمدات میں سہولت کی اسکیم جاری رہے گی تاکہ برآمد کنندگان کو اعلی معیار کے خام مال اور دیگر ضروری اشیا تک رسائی حاصل ہو۔

انہوں نے وضاحت کی کہ اس اسکیم کے تحت خام مال اور دیگر ضروری اشیا ڈیوٹی کے بغیر درآمد کی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس اسکیم کے غلط استعمال کی روک تھام کے لیے متعلقہ فریقوں کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔

مذہبی امور کے وزیر مملکت کیسو مل کھیئل داس نے ایک نقطہ اعتراض کے جواب میں کہا کہ پاکستان میں اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہندو برادری کو دیوالی کی تقریبات میں سہولت فراہم کرنے کے لیے حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کو ہدایت کی جائے گی کہ اس دوران لوڈشیڈنگ نہ کی جائے۔

 قومی اسمبلی کا اجلاس اب جمعرات شام چار بجے ہو گا۔