معرکہ حق کے بعد عالمی سطح پر بھارت کے موقف اور اسٹریٹجک دعوئوں پر سوالات اٹھنے لگے ہیں، جبکہ پاکستان کے علاقائی کردار اور اہمیت کو مزید تقویت حاصل ہوئی ہے۔
رپورٹس اور ماہرین کے مطابق بھارت طویل عرصے سے جنوبی ایشیا میں خود کو ایک اہم سکیورٹی پرووائیڈر کے طور پر پیش کرتا رہا، تاہم حالیہ پیش رفت نے اس بیانیے کو کمزور کر دیا ہے۔
امریکی دفاعی ڈھانچے میں ایک اہم تبدیلی کے تحت انڈو پیسیفک کمانڈ کے سابقہ نام کی بحالی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جسے بعض تجزیہ کار خطے میں اسٹریٹجک ترجیحات میں تبدیلی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
بھارتی دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیش رفت نئی دہلی کے لیے ایک علامتی دھچکے سے کم نہیں، جبکہ اس سے خطے میں طاقت کے توازن سے متعلق بحث مزید تیز ہو گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر اب یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں جغرافیائی اور اسٹریٹجک اثر و رسوخ کی نئی صف بندی ہو رہی ہے، جس میں پاکستان کا کردار نمایاں ہو رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ناموں اور ڈھانچوں میں تبدیلیاں اکثر مستقبل کی پالیسی سمت اور اسٹریٹجک شراکت داریوں کی عکاس ہوتی ہیں، جس کے اثرات خطے کی سیاست پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔