سینیٹ کو آج بتایا گیا کہ برآمد کنندگان سے مشاورت کے بعد برآمدی سہولت اسکیم کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔
وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے وقفہ سوالات کے دوران ایوان کو بتایا کہ یہ ایک اہم اسکیم ہے جو برآمد کنندگان کو خام مال اور دیگر ضروری اشیا بلا ٹیکس بنیادوں پر درآمد کرنے کی اجازت دیتی ہے، جس سے بین الاقوامی منڈیوں میں ان کی مصنوعات کی مسابقت یقینی بنانے میں مدد ملتی ہے۔
وزیر مملکت نے کہا کہ حکومت تعمیراتی شعبے کے لیے بھی ایک جامع پالیسی پر کام کر رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کاروبار میں سہولت فراہم کرنے اور بدعنوانی کے خاتمے کے لیے بندرگاہوں پر فیس لیس کسٹم نظام متعارف کرایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہوائی اڈوں پر بھی اسی طرح کا فیس لیس نظام متعارف کرانے کا منصوبہ ہے۔
ایک سوال کے جواب میں بلال اظہر کیانی نے کہا کہ برآمد کنندگان اور ایسے کاروباری اداروں کے لیے جن کی سالانہ آمدن پچاس کروڑ روپے سے زیادہ نہیں ہے، سپر ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پچاس کروڑ روپے سے زائد آمدن والے کاروباری اداروں کے لیے سپر ٹیکس کی شرح دس فیصد سے کم کر کے آٹھ فیصد کر دی گئی ہے۔ مالی گنجائش میسر آنے پر اس شرح میں مزید کمی کی جائے گی۔
اس سے قبل، اجلاس کے آغاز میں ایوان نے کرک میں دہشت گردوں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے کے دوران شہید ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کے لیے فاتحہ خوانی کی۔
ایوان کا اجلاس اب پیر کی شام چار بجے ہو گا۔