Tuesday, 25 June 2019, 11:43:46 am
بھارت نے جارحیت کا ارتکاب کیا تو ایسا جواب ملے گا جو اسکے وہم و گمان میں نہیں،آئی ایس پی آر
February 22, 2019

پاک فوج نے کہا ہے کہ ہم بھارت سے جنگ نہیں چاہتے تاہم اگر اس نے ہمارے خلاف جارحیت کا ارتکاب کیا تو اسے ایسا جواب ملے گا جو اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوگا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے آج سہ پہر راولپنڈی میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا جواب بھارتی توقعات سے بہت مختلف ہوگا کیونکہ ہماری فوج مختلف چیلنجوں سے کامیابی کے ساتھ نبرد آزما ہونے کے بعد کندن بن چکی ہے اور ہم پڑوسی ملک کی استعداد کار سے بھی بخوبی واقف ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ اس کا پلوامہ حملے سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ واقعے کا حملہ آور، دھماکہ خیز مواد اور اس کی منصوبہ بندی اندرونی طور پر کی گئی تھی۔انہوں نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان نے پہلے ہی بھارت سے کہا ہے کہ اگر اس کے پاس حملے سے متعلق کوئی ٹھوس ثبوت ہے تو وہ پیش کرے تاکہ پاکستان کسی بیرونی دبائوکے بغیر اپنے مفادات کی خاطر اس حوالے سے کوئی فیصلہ کن کارروائی کرے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے بھارت کو دہشت گردی کے مسئلے پر مذاکرات کی دعوت بھی دی جو پورے خطے کے امن کے لئے ایک ناسور ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ بھارت اس پیشکش کا مثبت جواب دے گا اور خطے کی ترقی اور خوشحالی کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالے گا۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے سوال کیا کہ ایسے وقت میں پاکستان کا اس معاملے سے تعلق کیسے ہو سکتا ہے جب پاکستان اندرون اور بیرون ملک اہمیت کی حامل آٹھ تعمیری سرگرمیوں میں مصروف ہے۔ان سرگرمیوں میں سعودی ولی عہد کا حالیہ دورہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں دہشت گردی کے محرکات پر جلد ہونے والی بحث، افغان امن مذاکرات اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے معاملے پر اقوام متحدہ اور یورپی یونین میں پیش رفت شامل ہیں۔کلبھوشن یادیو کیس کی عالمی عدالت انصاف میں سماعت، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی سماعت کرتارپور سرحد کے بارے میں اجلاس اور پاکستان سپرلیگ کے میچ بھی ان اہم سرگرمیوں کا حصہ ہیں۔میجرجنرل آصف غفور نے کہا کہ اس کے علاوہ بھارت میں انتخابی مہم جاری ہے اور مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی اپنے عروج پر ہے اور حالات بھارت کے کنٹرول سے باہر ہو چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت میں جب بھی انتخابات ہوتے ہیں تو پاک بھارت سرحدی کشیدگی اور مقبوضہ کشمیر کی صورتحال مزید خراب کرنا بھارت کا معمول بن چکا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ علاقائی امن کیلئے سب سے بڑا خطرہ تصفیہ طلب مسئلہ کشمیر ہے۔انہوں نے کہا ک کشمیری اب اس مقام تک پہنچ چکے ہیں جہاں انہیں موت کا کوئی خوف نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو اس صورتحال کا ادراک کر کے مسئلے کے پرامن حل کے لئے مذاکرات کی میز پر آنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی وجہ سے بھارت کا دنیا میں سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویٰ بے نقاب ہو گیا ہے۔میجرجنرل آصف غفور نے کہا کہ جمہوری حکومتیں جنگ نہیں کرتیں اور دونوں ملک ترقی اور امن کی راہ پر آگے بڑھ سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر بھارت خطے میں امن استحکام اور خوشحالی کے قیام کے لئے سنجیدہ ہے تو اسے پاکستان میں کلبھوشن جیسے جاسوس بھیجنے کا سلسلہ بند کرنا ہو گا۔دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جنگ کے حوالے سے میجرجنرل آصف غفور نے کہا کہ پاکستان نے عسکریت پسندی کے خلاف سکیورٹی فورسز کی سخت محنت اور متعدد کامیابیوں کے بعد استحکام حاصل کیا ہے اور وہ اس کے ضیاع کا متحمل نہیں ہو سکتا۔انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے خفیہ معلومات کی بنیاد پر کارروائیوں میں دہشت گردی کے کئی حملے موثر انداز میں ناکام بنائے ہیں۔انہوں نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ پاکستان کی سرحد پر باڑ لگانے کا کام جاری ہے جوغیرقانونی طور پر سرحدپار کرنے کے عمل کی روک تھام میں موثر ثابت ہوا ہے۔میجرجنرل آصف غفور نے پلوامہ حملے سے متعلق پاکستانی ذرائع ابلاغ کی محتاط رپورٹنگ کی تعریف کی جو اس جنگی صحافت سے انتہائی مختلف ہے جو بھارتی میڈیا کر رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل اسد درانی کے خلاف انکوائری میں وہ فوج کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسد درانی کی پنشن اور دیگر مراعات روک لی گئی ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے صحافیوں کو بتایا کہ دو فوجی افسروں کو جاسوسی کے الزامات پر گرفتار کیا گیا ہے اور آرمی چیف نے ان کا کورٹ مارشل کرنے کا حکم دیا ہے۔