Sunday, 01 November 2020, 03:07:57 am
پاکستان کرتارپورمیں بھارت سے آنے والے سکھ یاتریوں کو مکمل سہولتیں فراہم کررہا ہے
July 16, 2020

قومی اسمبلی کو آج بتایا گیا کہ پاکستان کرتارپور میں مذہبی رسومات کی ادائیگی کےلئے بھارت سے آنے والے سکھ یاتریوں کو مکمل سہولتیں فراہم کررہا ہے۔

وقفہ سوالات کے دوران داخلہ کے پارلیمانی سیکرٹری شوکت علی نے بتایا کہ کوروناوائرس کے باعث بھارت سے آنے والے سکھ یاتریوں کی تعداد میں کمی ہوسکتی ہے۔ تاہم پاکستان کی طرف سے سکھوں کےلئے ان کے مقدس مقام پر آنے کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔

پارلیمانی سیکرٹری نے کہا کہ سکھ یاتریوں کو ویزے کے بغیر کرتارپور کے دورے کی اجازت ہے تاہم پاکستان اور بھارت کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے مطابق وہ امیگریشن کلیئرنس کےلئے مستند بھارتی پاسپورٹ ساتھ لانے کے پابند ہیں۔

 شوکت علی نے کہا کہ بھارتی حکام کی طرف سے دس روز پہلے سکھ یاتریوں کی فہرست فراہم کی جاتی ہے جس کا سکیورٹی اور تصدیق کےلئے متعلقہ ادارو ں کے ساتھ تبادلہ کیا جاتا ہے اور ان کی منظوری کے بعد سکھ یاتریوں کو کرتارپور آنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔

 پارلیمانی سیکرٹری نے کہا کہ انسانی سمگلنگ روکنے کےلئے قانون سازی پر غور جاری ہے ، انہوں نے کہا کہ ایسے جرائم کی روک تھام کےلئے ایف آئی اے میں بھی اصلاحات کی جارہی ہیں۔

داخلہ کے پارلیمانی سیکرٹری نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کے دور میں ملک میں امن و امان کی مجموعی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔

وفاقی دارالحکومت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو سالوں میں جرائم کی شرح میں انتیس فیصد کمی آئی ہے۔

 انہوں نے کہا کہ اسلام آباد سیف سٹی منصوبے کو مکمل طور پر فعال بنادیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ جب تحریک انصاف برسراقتدار آئی تب اس منصوبے کے تحت دوہزار میں سے صرف تین سو کیمرے کام کررہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ اب ایک ہزار نو سو پچاس کیمرے فعال ہیں۔

توانائی کے وزیر عمر ایوب نے توجہ دلاو نوٹس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت بجلی کی تقسیم اور ترسیل کے نظام کو بہتر بنانے میں سرمایہ لگا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب ہم اقتدار میں آئے تو یہ نظام 18 ہزار میگاواٹ بجلی کی ترسیل کے قابل نہیں تھا لیکن اب موسم گرماکےدوران یہ23 ہزار میگاواٹ بجلی کی ترسیل کے قابل ہے۔

 انہوں نے کہا کہ یہ جدید ترین ٹیکنالوجی متعارف کراکر ممکن بنایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گنجان آباد علاقوں میں کم وولٹیج کے مسائل بھی حل کئے جارہے ہیں، انہوں نے کہا کہ بجلی چوری کی روک تھام کی کوششیں تیز کردی گئی ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ پانی، کوئلے اور قابل تجدید توانائی سمت مقامی وسائل بروئے کار لاتے ہوئے 2040 تک بجلی کی پیداوار ایک لاکھ میگاواٹ تک بڑھانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

ایوان کا اجلاس اب کل (جمعہ) دن ساڑھے دس بجے ہو گا۔