Saturday, 24 August 2019, 04:35:25 pm
بھارت کی جانب سے کسی بھی مہم جوئی کا پوری طاقت سے جواب دیا جائے گا، وزیراعظم
August 15, 2019

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اگر بھارت نے ہمارے خلاف کسی جارحیت کا ارتکاب کیاتو پاکستان پوری طاقت سے اس کا جواب دے گا۔

انہوں نے یہ بات بدھ کے تیسرے پہرمظفرآباد میں پاکستان کے 73ویں یوم آزادی کے سلسلے میں آزادجموںوکشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ ہماری دلیرمسلح افواج اورپوری قوم وطن کے دفاع کیلئے تیار ہے اور پاکستان کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے کسی بھی حد تک جائے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ شروع ہو گئی تو اس کی ذمہ دار عالمی برادری ہو گی جومقبوضہ کشمیر کی سنگین اورتشویشناک صورتحال دیکھتے ہوئے بھی خاموش تماشائی بنی رہی عمران خان نے کہا کہ ایسی اطلاعات ہیں کہ بھارت مقبوضہ کشمیر کے مظالم سے عالمی برادری کی توجہ ہٹانے کیلئے آزادجموں و کشمیر میں کوئی ڈرامہ رچا سکتا ہے لیکن اسے ہماری دفاعی صلاحیت کے حوالے سے کسی غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہئے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہم صورتحال کی سنگینی سے دنیا کو آگاہ کرنے کیلئے تمام عالمی فورمز استعمال کرینگے۔انہوں نے کہا کہ میںنیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں کشمیر کا معاملہ بھرپور انداز میں اٹھاؤں گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ میں نے دنیا بھر میں کشمیر کی آواز بلند کرنے کی ذمہ داری لی ہے اور میں بھارت میں آر ایس ایس کے نظریے کا مکروہ چہرہ بے نقاب کرونگا۔انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے بیانات اور ٹوئٹس میں دنیا کے سامنے بی جے پی اور اس کے رہنما مودی کا حقیقی چہرہ بے نقاب کیا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ ہمیں آر ایس ایس کے خطرناک نظریات کا سامنا ہے جو ہٹلر کی نازی پارٹی سے متاثر ہے۔

آر ایس ایس کے پیروکار خود کو بھارت میں دوسری اقوام سے برتر سمجھتے ہیں۔ آر ایس ایس نظریہ بنیادی طور پر مسلمانوں اور مسیحیوں سے نفرت پر مبنی ہے کیونکہ انہوں نے بھارت پر حکمرانی کی ہے۔ ان کے ایجنڈے میں مسلمانوں کی نسل کشی بھی شامل ہے۔

عمران خان نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح نے ابتدائی طور پر ہندوؤں کے ساتھ مل کر جدوجہد آزادی کا آغاز کیا تھا لیکن بعد میں جب انہیں اس بات کا احساس ہوا کہ ہندو اکثریت بھارت کی آزادی کے بعد مسلمانوں کو محکوم بنانا چاہتی ہے تو انہوں نے اپنی راہیں جدا کر لیں۔

انہوں نے کہا کہ انتہاپسند ذہنیت اور ہندوؤں کے نظریات مہاتما گاندھی کے قتل کا سبب بنے۔ یہ نظریہ گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام کے مکروہ چہرے کی صورت میں بھی سامنے آیا۔

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی فاش سٹریٹجک غلطی ہے اور اسے اس کی بھاری قیمت چکانا ہو گی۔انہوں نے کہا کہ بھارت کو معلوم نہیں کہ اس اقدام کی وجہ سے مسئلہ کشمیر عالمی حیثیت اختیار کر گیا ہے اور پوری دنیا اس مسئلے پر تشویش میں مبتلا ہے۔

وزیراعظم نے خبردار کیا کہ آبادی پر وحشیانہ اور ظالمانہ ہتھکنڈوں سے اس کا ردعمل سامنے آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھارت کے جو لوگ دوقومی نظریے کے حامی نہیں تھے انہیں بھی احساس ہو گیا ہے کہ وہ غلطی پر تھے۔

اُدھر وزیراعظم عمران خان نے اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ ہندو انتہاپسند تنظیم راشٹریہ سوائم سیوک سنگ کا نظریہ سب کے لئے خطرناک ہے۔

انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کا نظریہ نہ صرف کشمیریوں بلکہ بھارتی مسلمانوں ،مسیحی برادری اور دلتوں کیلئے بھی خطرناک ہے۔

انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کا نظریہ خود بھارت کے اپنے خلاف بھی ہے جس کا تصور اس کے بانی رہنماؤں نے دیا تھا۔