Wednesday, 20 November 2019, 07:14:31 pm
وزیراعظم عمران خان ہفتہ کو کرتارپور راہداری کا افتتاح کریں گے
November 08, 2019

وزیراعظم عمران خان ہفتہ کو کرتارپور راہداری کا افتتاح کریں گے جس کے لئے تمام تر تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔ جس کا مقصد بھارت سے آنے والے سکھوں کو پاکستان کے ضلع نارروال میں واقع کرتارپورہ میں گوردوارہ ڈیرہ صاحب تک رسائی فراہم کرنا ہے۔

اس راہداری کو  بابا گورو نانک دیو جی کی پانچ سو پچاسویں یوم پیدائش کی تقریبات کے موقع پر کھلا جارہا ہے جو منگل سے شروع ہورہی ہے۔

یہ اہم منصوبہ خطے میں امن سازی کے اقدامات اور  بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کےلئے وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر شروع کیا گیا جسے ریکارڈ مدت میں مکمل کیا گیا ہے۔

اس پورے منصوبے کےلئے فنڈ پاکستان کی طرف سے فراہم کئے گئے ہیں جوکہ سکھ برادری کےلئے ایک تحفہ ہے۔

اس سےپہلے  یہ گوردارہ  چار ایکڑ اراضی پر تعمیر کیاگیا تھا جسے اب آٹھ سو ایکڑ تک توسیع دی گئی ہے۔جن میں سے ایک سو چار ایکڑعمارت اور اس کے برآمدوں کی تعمیر کےلئے استعمال کی گئی ہے۔چھتیس ایکڑاراضی جہاں بابا گورو نانک کاشتکاری کرتے تھےKheti صاحب کے عنوان سے شجرکاری کےلئے مختص کی گئی ہے۔

سکھ یاتریوں کا یہ دورہ ویزے کےبغیر ہوگا  اور معاہدے کے تحت  سکھ یاتری دیگر خدمات کی فیس کی مد میں بیس ڈالرکی معمولی رقم ادا کریں گے،تاہم وزیراعظم عمران خان نے  کرتارپور راہداری اور گرو دیو جی کی یوم پیدائش کے موقع پر بہترین سہولیات کے طور پرپاکستان آنےوالے سکھ یاتریوں کےلئے پاسپورٹ اور فیس کی شرائط معاف کردی ہیں۔

بھارت سے آنے والے سکھ یاتریوں کا سرحد پر استقبال کیا جائے گا جہاں سے انہیں بائیو میٹرک تصدیق کےلئے ٹرمینل لے جایا جائے گا جہاں سے انہیں بسوں کےذریعے گوردوارہ لے جایا جائے گا۔ان سکھ یاتریوں کےلئے  جو گوردوارہ پیدل جانے کے خواہش مند ہوں گے ان کی آرام کی جگہ کے ساتھ پید ل چلنے کےلئے راستے بھی تعمیر کئے گئے ہیں،سکھ یاتریوں کےلئے اپنا سامان رکھنے کے سلسلے میں گوردارہ کے داخلی راستوں پر لاکر بھی دستیاب ہوں گے،سکھ یاتریوں کےلئے ایک اضافی دیوان بھی تعمیر کیا گیا ہے ایسی صورت میں جب  گوردوارہ میں جگہ کم ہوجائےتو دیگر سکھ یاتریوں کو اس دیوا ن میں سہولت فراہم کی جاسکے۔ اس کے علاوہ ایک لائبریری اور میوزیم بھی تعمیر کیاگیا ہے جس میں سکھوں کی تاریخی مذہبی اشیا رکھی گئی ہیں۔

گوردارہ کے اندر یاتریوں کےلئے بڑا گیسٹ ہاوس بھی تعمیر کیا گیا ہے۔

ایک لنگرخانہ بھی تعمیر کیا گیا ہے جس میں بیک وقت دوہزار سے زائد افراد کو کھانا کھلانے کی گنجائش موجود ہوگی۔لنگر خانہ میں ابتدائی دس دنوں میں مفت کھانا فراہم کیا جائے گا ، گوردارہ کی حدود میں لیٹرینوں اور پانی فلٹریشن کے نظام نصب کئے گئے ہیں جن میں خواتین یاتریوں کےلئے علیحدہ لیٹرینوں کا انتظام ہے۔

 مفاہمت کی یادداشت کے مطابق بھارتی سکھ یاتریوں کےلئے ضروری ہے کہ وہ اپنا دورہ ایک دن میں مکمل کریں اور شام کو اپنے ملک واپس چلے جائیں۔ابتدائی طورپر بھارت سے پانچ ہزار یومیہ سکھ یاتریوں کی آمد متوقع ہے۔ حکومت پاکستان نے دورے پر آنے والے سکھ یاتریوں کی مدد کےلئے سیاح رہنما اور ہیلپ ڈسک بھی قائم کئے ہیں۔

سکھ یاتریوں کی اژدھام کو سہولت فراہم کرنے کےلئے دس اضافی ویلج بھی قائم کئے گئے ہیں، سکھ یاتری سال کے365 دن دورے پر آسکتے ہیں، دنیا بھر سےسکھ برادری نے کرتارپور راہداری کھولے جانے پر مثبت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔