وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ہدایت پر پمز آتشزدگی واقعے کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطح انکوائری کمیٹی کے قیام کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔
ریٹائرڈ وفاقی سیکرٹری شاہد خان کو انکوائری کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے جبکہ میجر جنرل (ر) ڈاکٹر خورشید اُترا، ڈاکٹر بیرسٹر نبیل احمد اعوان اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کمیٹی کے ارکان ہوں گے۔
نوٹیفکیشن میں کمیٹی کے ٹرمز آف ریفرنس بھی جاری کیے گئے ہیں۔ کمیٹی آتشزدگی کے فوری سبب اور واقعے کی ٹائم لائن کا تعین کرے گی۔
کمیٹی ہسپتال کے عملے، فائر بریگیڈ، ریسکیو 1122 سمیت متعلقہ اداروں کی ہنگامی ردعمل اور امدادی کارروائیوں کا جائزہ لے گی۔
نومولود بچوں کی منتقلی، بالخصوص ہائی رسک نوزائیدہ بچوں کے انخلا کے حوالے سے ہنگامی ایس او پیز پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
کمیٹی پمز میں فائر سیفٹی انفراسٹرکچر اور حفاظتی ضوابط پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لے گی۔ واقعے میں ملوث کسی بھی فرد کی ذمہ داری اور غفلت کا تعین کرکے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا۔
کمیٹی مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے پمز کے انتظامی نظام میں ضروری اصلاحات کی سفارشات پیش کرے گی۔
انکوائری کمیٹی 48 گھنٹوں کے اندر فوری نوعیت کی سفارشات پر مشتمل عبوری رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرے گی۔
انکوائری کمیٹی واقعے کی مکمل تحقیقات اور قابلِ عمل سفارشات پر مشتمل جامع رپورٹ پانچ روز کے اندر وزیراعظم کو پیش کرے گی۔
وزارتِ قومی صحت کو فوری طور پر انکوائری کمیٹی کو نوٹیفائی کرنے اور معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔