Tuesday, 25 June 2019, 04:59:01 am
مقبوضہ کشمیر میں قابض حکام نے عوام کوبھارت مخالف مظاہروں سے روکنے کیلئے سخت پابندیاں عائد کردیں
May 24, 2019

مقبوضہ کشمیر میں قابض حکام نے عوام کو آج وادی میں بھارت مخالف اور آزادی کے حق میں مظاہرے کرنے سے روکنے کیلئے کرفیو اور سخت پابندیاں عائد کردیں اور انٹرنیٹ سروس بھی معطل کردی ہے۔حکام نے کرفیو اور پابندیاں کل شام اعلی مجاہد کمانڈر ذاکر موسی کی شہادت کے بعد عائد کی ہیں ۔بھارتی فوج نے ڈاکٹر موسی اور اس کے ساتھی کو ضلع پلوامہ کے علاقے DADSARA ترال میں محاصرے اورتلاشی کی کارروائی کے دوران شہید کیا ۔شہادت کے واقعے کے بعد کل شام وادی کے بہت سے علاقوں میں بڑے پیمانے پر مظاہرے شروع ہوگئے ہیں جس کے بعد قابض حکام نے سرینگر ، پلوامہ ، ترال ، اونتی پورہ ، شوپیاں ، اسلام آباد اور بڈگام کے علاقوں میں کرفیو اور پابندیاں نافذ کردیں ۔قابض حکام نے وادی میں تمام تعلیمی اداروں کو بند کرنے کاحکم دیا ہے تاکہ طلبا کو ذاکر موسی اور اس کے ساتھی کی شہادت کے واقعے کے خلاف مظاہروں سے روکا جاسکے ۔سری نگر ، بڈگام ، گاندربل ، پلوامہ ، اسلام آباد ، شوپیاں ، کلگام ، بانڈی پورہ ، کپواڑہ اور باہمولا کے اضلاع میں بھارتی فوج اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے ۔صورتحال کے تناظر میں کشمیریونیورسٹی سرینگر اوراسلامک یونیورسٹی آف سائنس وٹیکنالوجی اوانتی پورہ ، پلوامہ میں آج ہونے والے تمام امتحانات ملتوی کردئیے گئے ہیں۔

پابندیوں کے باوجود لوگوں کی بڑی تعداد ممتاز مجاہد کمانڈر ذاکر موسی کی نماز جنازہ میں شرکت کیلئے ضلع پلوامہ کے علاقے ترال میں نورپورہ کے مقام پر پہنچ گئی ۔شہید کمانڈرکے آخری دیدار کیلئے سینکڑوں کی تعداد میں نوجوانوں نے شدید بارش کے باوجود تمام رات سڑکوں پر گزار دی ۔