پاکستان اور ملائیشیا نے تجارت، سرمایہ کاری اور ثقافت سمیت مختلف شعبوں میں باہمی تعاون مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
یہ اعادہ وزیراعظم محمد شہباز شریف اور اُن کے ملائیشیا کے ہم منصب داتو سری انور ابراہیم کے درمیان آج ٹیلی فون پر بات چیت کے دوران کیا گیا۔
وزیراعظم نے عیدالاضحی کے پُر مسرت موقع پر مبارکباد کا تبادلہ کیا۔
دونوں رہنمائوں نے غزہ میں بے گناہ فلسطینیوں کے امن اور تحفظ کیلئے دعا بھی کی۔
شہباز شریف نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے دوران حمایت اور متوازن موقف پر ملائیشیا سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کشیدگی میں کمی اور مذاکرات پر زور دیا۔
وزیراعظم نے اِس بات پر زور دیا کہ پاکستان ہمیشہ علاقائی امن و استحکام کیلئے کوشاں رہا ہے تاہم بھارت کی فوجی جارحیت کا منہ توڑ اور فیصلہ کن جواب دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے علاقائی امن و سلامتی کیلئے امریکہ اور دیگر دوست ممالک کی ثالثی میں جنگ بندی معاہدے کی پیشکش قبول کی۔
انہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ پاکستان جموں و کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل پر بھارت کے ساتھ مذاکرات کیلئے تیار ہے۔
دریں اثناء تاجکستان کے صدر امام علی رحمن کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کے دوران وزیراعظم نے اِس بات پر زور دیا کہ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن و سلامتی برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے اور اِسی جذبے کے تحت اُس نے
امریکہ اور دیگر دوست ممالک کی ثالثی میں بھارت کے ساتھ جنگ بندی معاہدے پر اتفاق کیا۔
وزیراعظم نے حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران متوازن موقف اپنانے اور امن اور مذاکرات پر زور دینے پر تاجکستان کا شکریہ ادا کیا۔
صدر امام علی رحمن نے علاقائی امن و سلامتی کیلئے پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی۔
دونوں رہنمائوں نے ایک دوسرے کو عید کی مبارکباد دی۔
ملاقات میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گہرے، سٹریٹجک اور برادرانہ تعلقات کا اعادہ کیا گیا۔
دونوں رہنمائوں نے غزہ میں سنگین انسانی صورتحال پر بھی تفصیلی بات چیت کی۔انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اپنے اخلاقی اور قانونی فرائض پورے کرے ۔ انہوں نے فلسطینی مسئلے کے منصفانہ اور دیرپا حل کے لئے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا جو عرب امن منصوبے اور اقوام متحدہ کی سلامتی
کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر مبنی ہو۔
دونوں رہنمائوں نے سٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے پر اتفاق کیاجو قیادت کے مشترکہ وژن اور دونوں برادر ممالک کے عوام کی خواہشات کے مطابق ہو۔