وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بجلی کی قیمتوں میں کمی کااعلان کردیا۔
وزیراعظم نے گھریلو صارفین کے لئے بجلی کی قیمتوں میں 7.41 روپے فی یونٹ اور صنعتی صارفین کے لئے 7.69 روپے فی یونٹ کمی کا اعلان کر دیا۔
آج (جمعرات) اسلام آباد میں بجلی کے نرخوں میں کمی کے حکومتی پیکیج کے اعلان کے حوالے سے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پوری قوم کو عید کی مبارکباد دی۔
وزیراعظم نے کہا کہ بجلی کے نرخوں میں کمی کی یہ خوشخبری مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف کی جانب سے اپنے انتخابی منشور میں کئے گئے وعدے کی عکاس ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت میں اب بنیادی استحکام آچکا ہے اور یہ ریلیف پوری قوم کیلئے عید کا تحفہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ جون 2024 میں گھریلو صارفین کیلئے بجلی کی قیمت 48 روپے 70 پیسے تھی وہ اس وقت 45 روپے 5 پیسے فی یونٹ ہے، آج گھریلو صارفین کیلئے مزید 7 روپے 41 پیسے فی یونٹ کمی کر رہے ہیں، گھریلو صارفین کو 34 روپے 37 پیسے فی یونٹ بجلی ملے گی۔
وزیراعظم نے کہا ہے کہ معاشی ترقی واستحکام کے نتیجے میں اب خوشخبریاں سنانے کا موقع آیا ہے، معاشی میدان میں کامیابیوں کا سلسلہ آگے بڑھا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک سال کے دوران پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 38 روپے کی کمی کی، اس وقت پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں پورے خطے میں سب سے کم ہیں،پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھتے ہوئے اس کا فائدہ بجلی کے شعبے میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت بجلی کے شعبے کا گردشی قرضہ2393ارب روپے ہے، اس گردشی قرضے کے مسئلے کا مستقل حل تلاش کرلیا گیا ہے، آئندہ پانچ سالوں میں گردشی قرضہ بتدریج ختم ہو جائے گا۔
وزیراعظم نے کہا ہے کہ اللہ کے فضل و کرم سے محنت رنگ لائی اور ملک دیوالیہ ہونے سے بچ گیا۔
انہوں نے کہا اقتصادی استحکام کیلئے آرمی چیف جنرل سیدعاصم منیر کا بھرپور تعاون حاصل رہا۔
وزیراعظم نے کہا کہ سرکاری اداروں کے 800 ارب روپے کے نقصانات کو ختم کرنا ضروری ہے اور اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے ایک طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ میکرو اکنامک اشاریئے بہتر ہو چکے ہیں،مہنگائی سنگل ڈیجٹ پرآچکی ہے، پالیسی ریٹ کم ہوکر12فیصد پرآ گیا ہے۔ مشکل فیصلوں اور سخت محنت سے اپنی منزل حاصل کریں گے، ٹیکس محاصل میں 35 فیصد اضافے کا ہدف ہے، نجکاری اور رائٹ سائزنگ معاشی اصلاحات کی کڑی ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ زرعی شعبے میں ترقی کی بہت استعداد موجود ہے لیکن اس میں کئی ایسے چیلنجز ہیں جن سے نمٹنا ضروری ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ جب تک بجلی کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی نہیں آئے گی نہ ہماری صنعت ترقی کرے گی نہ تجارت اور ایکسپورٹس بڑھیں گی۔
انہوں نے کہاکہ بجلی کی قیمتوں میں کمی کے لئے ٹاسک فورس نے بہت محنت کی، آئی ایم ایف کو قائل کیا، آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کی تمام شقوں پر عمل درآمد کے لئے پرعزم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ کامیاب مذاکرات کوئی معمولی پیشرفت نہیں، کامیاب مذاکرات کی بدولت 3696 ارب روپے کا ریلیف ملا۔