Saturday, 02 July 2022, 04:57:04 am
قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں اندرونی اور بیرونی سیکیورٹی کو درپیش خطرات پر تبادلہ خیال
June 22, 2022

قومی سلامتی کمیٹی کے بند کمرے کے اجلاس میں جووزیراعظم شہبازشریف کے زیرصدارت اسلام آباد میں ہوا ۔ تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ بات چیت اور پاک افغان سرحد کی صورتحال پرتفصیلی غورکیاگیا۔

اجلاس میں قومی، پارلیمانی اور سیاسی قیادت، اراکین پارلیمنٹ اور عسکری قیادت نے شرکت کی۔اجلاس کو ملک کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال بشمول اندرونی اور بیرونی سیکیورٹی کو درپیش خطرات اور ان سے نمٹنے کے لیے متعلقہ سیکیورٹی اداروں کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔اجلاس کو پاکستان افغانستان سرحد کے انتظامی امور پر بھی بریفنگ دی گئی اور کہا گیا کہ پاکستان نے افغانستان میں امن و استحکام کے لیے ہمیشہ ذمہ دارانہ اور مثبت کردار ادا کیا ہے اور کرتا رہے گا۔اجلاس میں اس اعتماد کا اظہار کیا گیا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔اجلاس میں کہا گیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کوششوں اور قربانیوں کا دنیا نے اعتراف کیا ہے۔بعد ازاں آج(بدھ) شام اسلام آباد میں وزیرداخلہ رانا ثنا اللہ نے وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کے ہمراہ میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ کیاگیا کہ وزیراعظم شہبازشریف پارلیمنٹ کے بند کمرے کے اجلاس میں ارکان پارلیمان کو اعتماد میں لیںگے جو جلد منعقد ہوگا۔انہوں نے واضح کہاکہ ملک میں قیام امن کیلئے مذاکرات آئین اور قانون کے دائرے میں ہوںگے ۔سابق وزیراعظم عمران خان کی قومی احتساب قانون میں اصلاحات سے متعلق ہرزہ سرائی کے بارے میں رانا ثناء اﷲ نے کہاکہ نیب قانون میں ضابطہ فوجداری کی روح کے مطابق ترمیم کی گئی ہے جس کے تحت ریمانڈ کا دورانیہ نوے روزسے کم کرکے چودہ روز کیاگیا ہے۔انہوں نے کہاکہ عمران خان کے فرنٹ مینوں سمیت ہرشہری کو ان ترامیم سے فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ عمران خان ایک نیا بیانہ بنانے کیلئے نیب قانون میں اصلاحات سے متعلق قوم کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

 

 

 

Error
Whoops, looks like something went wrong.