Tuesday, 26 October 2021, 09:37:07 am
جرمنی کی دوحہ امن عمل کو آگے بڑھانے میں پاکستان کے تعمیری کردار کی تحسین
September 18, 2021

جرمنی نے افغانستان میں استحکام امن و ترقی کے لئے دوحہ امن عمل کو آگے بڑھانے میں پاکستان کے کردار کو سراہا ہے۔ریڈیو پاکستان کے خبروں اور حالات حاضرہ کے چینل کو دیئے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں پاکستان میں جرمنی کے سفیر BERNHARD SCHLAGHECK نے کہا کہ امریکہ اور عالمی برادری نے پاکستان کے کردار کو تسلیم کیا ہے اور جرمنی بھی اس مثبت کردار کا اعتراف کرتا ہے۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ پاکستان مستقبل میں بھی افغانستان میں تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکومت اور مسلح افواج طالبان کو باور کرانے کی سخت کوششیں کررہی ہیں کہ وہ افغانستان میں ایک اتحادی حکومت تشکیل دیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو خطے میں اپنی اہمیت اور کردار کا بخوبی اندازہ ہے۔ جرمن سفیرنے کہا کہ کابل میں سب پر مشتمل حکومت اس ملک میں امن و استحکام کے لئے بہت ضروری ہے۔

افغانستان کے ہمسایہ ممالک کے کردار کے بارے میں ایک سوال پر جرمنی کے سفیر نے کہا کہ ان میں سے کوئی بھی افغانستان میں عدم استحکام نہیں چاہتا کیونکہ یہ سیاسی تباہی کانسخہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بعض ممالک کے مفادات اور تناظرمختلف ہیں جو قابل فہم بات ہے مگر سب حقیقی معنوں میں سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں امن و استحکام سارے خطے کے مفاد میں ہے۔

دہشت گردی کے بارے میں بات کرتے ہوئے جرمنی کے سفیر نے کہا کہ افغانستان سے نکل کر خطے میں پھیلنے والا یہ عفریت پوری دنیا کے لئے تشویش کا باعث ہے۔

جرمنی کے وزیر خارجہ ہیکو ماس کے حالیہ دور ہ پاکستان کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں سفیر نے کہا کہ ان کا دورہ پاکستان کے ساتھ باہمی تعلقات اور خطے میں جاری صورتحال بشمول افغانستان کے بارے میں تھا۔

انہوں نے کہا کہ جرمنی کے وزیر خارجہ کی وزیراعظم عمران خان‘ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقاتوں میں دیگر اہم امور کے ساتھ افغانستان کے مسئلے پر بات چیت ہوئی۔

جرمنی کے سفیر نے کہا کہ افغانستان میں صورتحال بہت زیادہ گھمبیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان افغانستان میں اتنی ہی حقیقت ہیں جتنی کہ ملک میں مخدوش انسانی صورتحال۔

انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کا ایک ذمہ دار شراکت دار ہونے کے ناطے جرمنی افغانستان میں اپنا کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات بہت اہمیت کی حامل ہے کہ طالبان اپنے پرانے رویے کو ترک کرنے کے لئے تیاروآمادہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم افغانستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لئے تیار ہیں لیکن ان کی حکومت تسلیم کرنے کا سوال ابھی ایجنڈے کا حصہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کی حکومت تسلیم کرنے کے لئے ہم ان کی حرکات و سکنات پر نظر رکھیں گے۔

طالبان کے بارے میں بعض مغربی ممالک کے تحفظات کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں سفیر نے کہا کہ افغانستان میں خواتین اور اقلیتوں کے ساتھ سلوک اور اشتراک حکومت کے قیام جیسے اہم معاملات پر پوری دنیا کی نظریں مرکوز ہیں۔انہوں نے کہا کہ افغانستان پر حالیہ جنیوا کانفرنس میں جرمنی نے افغانستان کی امداد کے لئے دس کروڑ یورو فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم مزید پچاس کروڑ یورو کی رقم اس میں شامل کرنے پر غور کررہے ہیں، تاہم ابھی اس کااعلان نہیں کیا گیا۔

جرمنی میں سکونت اختیار کرنے کے خواہشمند افغانوں سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم نے سب سے پہلے ان افغانوں کا خیال کرنا ہے جنہوں نے جرمنی کے مفادات کے لئے کام کیا اور اب وہ خطرے سے دوچار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ بہت سے غیر محفوظ افغانوں جیسے کہ صحافیوں اور حقوق انسانی کے کارکنوں کو جرمنی منتقل کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے پاکستانی حکومت نے ہماری بڑی مدد کی او ر ہم ان کی مدد کی تعریف کرتے ہیں۔

پاکستان اور جرمنی کے مابین تعلقات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ جرمنی اور پاکستان کے مابین ستر سال پہلے سفارتی تعلقات استوار ہونے کے بعد سے باہمی دوستانہ اور اچھے تعلقات ہیں اور ان تعلقات کو مختلف شعبوں میں مزید تقویت دینےکی گنجائش ہے۔

سفیر نے کہا کہ دونوں ملکوں کے مابین مضبوط باہمی روابط قائم ہیں اور اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پچھلے ہفتے ایک جرمن بحری جہاز نے کراچی بندرگاہ کا دورہ کیا‘ جرمنی کا ایک تجارتی وفد حالیہ دنوں میں کراچی اور اسلام آباد کے دورے پر ہے اور جرمنی کے وزیر خارجہ نے بھی حالیہ دنوں میں پاکستان کا دورہ کیا۔اسی طرح وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید نے اس سال جرمنی کے دورے کئے۔انہوں نے کہا کہ جرمنی کے تاجر اور سرمایہ کار پاکستان کی ابھرتی ہوئی مارکیٹ میں تجارت اور سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کچھ رکاوٹوں کے باوجود پاکستان کا تجارتی پس منظر بہترین ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور جرمنی کے مابین گہرے تجارتی مراسم ہیں جس کا حجم تین ارب یورو ہے۔ اس کے علاوہ اسلام آباد اور برلن کے مابین لوگوں کی سطح پر وفودکے بے تحاشا تبادلے اور ترقی میں تعاون بھی جاری ہے۔

جرمنی کے سفیر نے کہا کہ ترقی کے لئے امداد کی مد میں جرمنی نے پاکستان میں کئی سال پرمحیط چار ارب یورو کی سرمایہ کاری کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امداد کی ترجیحات میں اب پاکستانی حکومت کی ضروریات کے تحت تبدیلی لائی گئی ہےاور موجودہ حالات میں ماحولیاتی تبدیلی‘ بجلی پیدا کرنے کیلئے شمسی توانائی جیسے متبادل ذرائع اور دوسرے شعبوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔

ملک کو سرسبز و شاداب بنانے کے لئے موجودہ حکومت کے اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے جرمنی کے سفیر نے کہا کہ قدرتی ماحول کو بہتر بنانے کے لئے کردار و اقدامات پر پاکستان کو رول ماڈل قرار دیاجاسکتا ہے۔جرمن سفیر نے کہا کہ پاکستان میں دھوپ بہت زیادہ پڑتی ہے لہٰذامتبادل ذرائع میں شمسی توانائی حاصل کرنے کے مواقع زیادہ ہیں۔

گاڑیوں کے شعبے میں تعاون کے بارے میں جرمنی کے سفیر نے کہا کہ دونوں فریقین اس شعبے میں تعاون کے لئے نئی جہتوں کی تلاش میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل قریب میں جرمنی کی کار بنانے والی کمپنیاں پاکستانی مارکیٹ میں کام شروعکر سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی نوجوانوں کی تکنیکی مہارتوں کو جلا بخشنے کے لئے جرمنی پاکستان کو تربیت کے شعبے میں تعاون فراہم کررہاہے۔ انہوں نے کہا کہ COVAX کے ذریعے جرمنی پاکستان سمیت بہت سے ترقی پذیر ممالک کوویکسینفراہم کررہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جرمنی براڈ کاسٹر ڈوئچے ویلے پاکستانی میڈیا کے اداروں سے تعاون کررہا ہے اور میڈیاکے شعبے میں تربیت کے لئے پاکستانی صحافیوں کوجرمنی آنے کی د عوت دی جاسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جرمن ائیرلائنزپاکستانی حکام کے ساتھ مشاورت کررہی ہیں تاکہ پاکستان اور جرمنی کے درمیان پروازیں شروع کی جاسکیں تاہم ابھی تک اس کاحتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ جرمن سفیر نے کہا کہ باہمی تعلقات کے فروغ میں دونوںممالک کے درمیان روابط اور وفود کا تبادلہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیاحت اور تعلیمی وفود کا تبادلہ بھی بہت اہم ہے اور پانچ ہزار سے زیادہ پاکستانی طلباء جرمنی کے تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی طلباء جرمنی میں جرمن زبان بالکل مفت سیکھ سکتے ہیں۔ اس کےعلاوہ جرمن یونیورسٹیاں مختلف سطحوں پر بین الاقوامی طلباء کو وظائف دیتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی نژاد ستر ہزار کے قریب ا فراد جن میں تاجر اور ماہر لوگ شامل ہیں جرمن معاشرے کی ترقی میں فعال کردار ادا کررہے ہیں اور یہ لوگ دونوں ممالک کے درمیان ایک پل کا کام بھی کرتے ہیں۔

ڈپلومیٹک سیشن کے نام سے ہفتہ وار پروگرام کے میزبان مشہور صحافی اور کالم نگار جاوید صدیق ہیں جبکہ پروگرام کے پروڈیوسر سعید احمد اور ایگزیکٹو پروڈیوسر عبد الرؤف خان ہیں۔

ہفتہ وار پروگرام ڈپلومیٹک سیشن ریڈیو پاکستان کے نیوز اور کرنٹ افیئرز چینل سے ہر ہفتے شام سوا چھ بجے نشر ہوتاہے۔ یہ پروگرام شعبہ ریڈیو پاکستان کی آفیشل ویب سائٹwww.radio.gov.pk اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور ریڈیوپاکستان پوڈ کاسٹ پر بھی دستیاب ہے۔

No description available.

Error
Whoops, looks like something went wrong.