عثمان سیف اللہ نے کہا ہے کہ حکومت کو روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور برآمدات میں اضافے کیلئے صنعتی پالیسی وضع کرنی چاہیے۔

سینیٹ میں اگلے مالی سال کی بجٹ تجاویز پر بحث
31 مئی 2017 (14:41)
0

سینیٹ نے اگلے مالی سال کی بجٹ تجاویز پر آج پھر بحث شروع کی ۔ بحث میں حصہ لیتے ہوئے عثمان سیف اللہ نے کہاکہ بجٹ میں بے روزگاری، غربت اور برآمدات میں اضافے جسے مسائل سے نمٹنے کیلئے کوئی اقدام تجویز نہیں کیاگیا۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور برآمدات میں اضافے کیلئے صنعتی پالیسی وضع کرنی چاہیے۔
الیاس بلور نے کہاکہ حکومت کوچھوٹے صوبوں کی ترقی کا زیادہ خیال رکھنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے کیلئے پانی سے بجلی پیدا کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔

نزہت صادق نے کہا بجلی کی قلت پر قابو پانے کیلئے سورج اور ہوا سمیت مختلف ذرائع استعمال کئے جارہے ہیں ،انہوں نے کہا موجودہ حکومت بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پربھی خصوصی توجہ دے رہی ہے جس کے تحت موٹرویز کے نیٹ ورک کو توسیع دی جارہی ہے۔انہوں نے کہاکہ ان منصوبوں سے لوگوں کی زندگیوں میں حقیقی تبدیلی آئے گی۔
ڈاکٹر جمال دینی نے کہاکہ یہ حوصلہ افزا بات ہے کہ نئے ڈیموں کی تعمیر کیلئے بجٹ میں فنڈ مختص کئے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان قدرتی اور معدنی وسائل سے مالامال ہے جنہیں بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔مظفر حسین شاہ نے کہاکہ زرعی پیداوار کو زیادہ سے زیادہ اضافے کیلئے کاشتکاروں کو مزید مراعات دینے کی ضرورت ہے۔انہوں نے ہر قسم کی کھاد اوردرآمدی بیجوں پر جی ایس ٹی ختم کرنے کی تجویزدی۔

بحث میں حصہ لیتے ہوئے نہال ہاشمی نے کہا کہ ملک میں اقتصادی اور سلامتی کی صورتحال میں بہتری لانے کا سہرا حکومت کے سر ہے۔
انہوںنے کہا کہ تمام معاشی اعشاریے مثبت ہیں اور حکومت ان کے فوائد عام آدمی تک منتقل کرنے کیلئے اقدامات کررہی ہے انہوں نے کہا بیت المال کیلئے فنڈز میں بھی اضافہ کیاگیا ہے۔مشاہد حسین سید نے ملک میں کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کیلئے دو ارب روپے مختص کرنے کو سراہا، انہوںنے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے عوامی سفارتکاری پر عمل کیا جانا چاہیے۔سحر کامران نے اندرونی اوربیرونی قرضوں میںاضافے پر تشویش ظاہرکی۔
انہوں نے کہا کہ برآمدات اورترسیلات زر میں کمی ہوئی ہے۔صلاح الدین ترمزی نے آبادی کے بڑھتے ہوئے رجحان پر نظر رکھنے کی ضرورت پر زوردیا۔
سلیم ضیا نے بڑے پیمانے پر چینی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا اس سے ملک کی اقتصادی صورتحال تبدیل ہوجائے گی۔

عائشہ ناصر نے مسلسل پانچواں بجٹ پیش کرنے پر حکومت کومبارکباد دی۔
انہوںنے تجویز پیش کی کہ سرکاری شعبے کے ترقیاتی پروگرام میں اقلیتوں کے حصے میں اضافہ کیا جائے ،انہوںنے کہا کہ بجٹ میں تنخواہوں اورپنشن میں کیاگیا اضافہ ناکافی ہے۔
چوہدری محمد ارشد نے کاشتکاروں کوریلیف فراہم کرنے کیلئے حکومت کے اقدام کو سراہا ،انہوںنے تجویز دی کہ زرعی پیداوار کی مارکیٹنگ اوربرآمدات کیلئے اقدامات کئے جانے چاہئیں۔راجہ جاوید اخلاص نے ملک کے تمام حصوں میں مواصلاتی ڈھانچے کی ترقی کیلئے خطیر فنڈ مختص کرنے کو سراہا۔
پیر بخش جونیجو نے ملک میں زرعی شعبے کی بہتری کیلئے کئے جانے والے اقدامات کو سراہا۔عالیہ کامران نے تجویز دی کی کہ تعلیم کے شعبے کیلئے مزید فنڈز مختص کئے جائیں جن میں فنی تعلیم پر خصوصی توجہ دی جائے۔
شائستہ پرویزنے بجٹ کوعوام دوست قرار دیا ،انہوں نے متوازن بجٹ پیش کرنے پر مسلم لیگ(ن) کی قیادت کو مبارکباد پیش کی ۔
ایوان کااجلاس جمعہ کو دن گیارہ بجے ہوگا۔