Friday, 15 November 2019, 07:22:37 am
پاکستان حق خودارادیت کے حصول تک کشمیریوں کی حمایت جاری رکھے گا،چیئرمین کشمیر کمیٹی
October 31, 2019

امور کشمیر کے بارے میں پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین سید فخر امام نے کہا ہے کہ پاکستان کشمیریوں کے حق خودارادیت جس کا اقوام متحدہ کی قراردادوں میں وعدہ کیا گیا ہے کے حصول تک ان کی حق پر مبنی جدوجہد کی حمایت جاری رکھے گا۔ریڈیو پاکستان کے خبروں اور حالات حاضرہ کے چینل کو ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے اسی لاکھ لوگوں کو دبانے کیلئے نو لاکھ فوجی تعینات کر رکھے ہیں جس سے مقبوضہ علاقہ دنیا کا سب سے زیادہ فوجیوں کی تعیناتی والا خطہ بن گیا ہے انہوں نے کہا کہ مودی حکومت1923 میں شروع ہونے والے آر ایس ایس کے ہندو انتہا پسند نظریے کو آگے بڑھانے کیلئے مقبوضہ کشمیر میں بربریت کررہی ہے۔سید فخر امام نے کہا کہ پاکستان کشمیر کو متنازعہ علاقہ سمجھتا ہے جسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی اپنی1948 ء اور1949 ء کی قراردادوں میں تسلیم کیاگیا ہے انہوں نے کہا کہ کشمیر اب بھی متنازعہ علاقہ ہے اور اگست میں بلائے گئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے خصوصی اجلاس میں اس بات کی ایک بار پھر توثیق کی گئی ہے انہوں نے کہا کہ کشمیر پر اقوام متحدہ کے پانچ مستقل ارکان کا خصوصی اجلاس اس بات کا اعتراف ہے کہ یہ ایک بین الاقوامی تنازعہ ہے جسے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ہونے والے استصواب رائے اور کشمیر کے لوگوں کی خواہشات کے مطابق حل کیا جانا ہے۔پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ اب مودی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کو وفاقی حصوں میں تبدیل کرکے انکا انتظام براہ راست اپنے قبضے میں کرلیا ہے انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ اٹھاسی روز سے مواصلاتی اور دیگر پابندیاں عائد ہیں انہوں نے کہا کہ تقریباً تیرہ ہزار نوجوانوں کو گرفتار کیاگیا ہے۔خواتین کی بے حرمتی کی جارہی ہے اور مقبوضہ علاقے میں ادویات اور خوراک کی قلت ہے جبکہ بچوں کیلئے سکول جانا مشکل ہوگیا ہے۔

سیدفخر امام نے کہا کہ نیویارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ سمیت عالمی میڈیا نے اجاگر کیا کہ کشمیر میں بھارتی قابض فوج کے ہاتھوں انسانیت کس طرح مشکلات سے دوچار ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو یہ احساس ہو گیا ہے کہ یہ بھارت ہے جو کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کر رہا ہے اور اس حوالے سے بھارت کے بیانیے کو مسترد کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کے لئے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر کی دو رپورٹس سے پتہ چلا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہے۔انہوں نے کہا کہ پہلی بار امریکی ایوان نمائندگان کی امور خارجہ کمیٹی کے تقریباً 12 ارکان نے نائب وزیر خارجہ ایلس ویلز سے مشکل ترین سوالات پوچھے۔ ان سے استفسار کیا گیا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر خاموشی کیوں اختیار کر رکھی ہے۔انہوں نے کہا کہ فرانس کی پارلیمنٹ نے بھی مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بحث کی۔ایک سوال کے جواب میں چیئرمین نے کہا کہ حکومت پاکستان کی مؤثر مہم کی بدولت مسئلہ کشمیر کے بارے میں عالمی برادری کی سوچ میں تبدیلی آ رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کے تعلقات عامہ کا محکمے نے یورپی یونین کے ارکان پارلیمنٹ کے ایک خصوصی گروپ کو مدعو کر کے دنیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔تاہم ان میں سے کئی ارکان کو جب پتہ چلا کہ انہیں مقامی لوگوں سے بات چیت کرنے اور وہاں کی صورتحال کا جائزہ لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی تو انہوں نے دعوت قبول کرنے سے انکار کر دیا۔انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کے رکن پارلیمنٹ کرس ڈیوس نے ناصرف بھارت کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کیا بلکہ اس بات پر بھی غور کیا کہ وہ مودی حکومت کے اس ڈھونگ میں حصہ لینے کو تیار نہیں ہیں اور یہ ظاہر کیا کہ سب کچھ ٹھیک ہے۔یہ بات واضح ہے کہ کشمیر میں جمہوری اصولوں کی پامالی کی جا رہی ہے اور دنیا کو اس کا نوٹس لینے کی ضرورت ہے۔سیدفخر امام نے کہا کہ اب بھارت میں اقلیتیں اور نچلا طبقہ برداشت سے عاری بھارتی یونین سے آزادی چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے موجودہ حکمران ملک کو سیکولرازم اور جمہوریت سے دور لے جا رہے ہیں۔