Monday, 13 July 2020, 09:24:11 am
جموں و کشمیر بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ، بھارت یک طرفہ طور پراسکی حیثیت تبدیل نہیں کرسکتا،حریت کانفرنس
May 31, 2020

سیاسی تجزیہ کاروں نے بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کے قوم سے خطاب پرکڑی تنقید کی ہے جس میں انہوں نے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے اور شہریت کے متنازع قانون کی توثیق کا جواز پیش کیا۔

بعض تجزیہ کاروں نے مودی کے خطاب پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس تقریر سے مقبوضہ کشمیر میں غم و غصہ مزید بڑھ سکتا ہے۔
ناقدین نے نریندر مودی کے دعوئوں کو حقائق سے پردہ پوشی اورایک ایسے موقع پر ہندوتوا کاایجنڈا آگے بڑھانے کی مذموم کوشش قرار دیا جب بھارت کو کشمیری عوام کی مشکلات کم کرنے اور بھارت اور مقبوضہ میں بڑے معاشی اور صحت کے بحرانوں پر قابو پانے پر زیادہ توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔
ارمیلیش نے جوکہ دہلی سے تعلق رکھنے والے ایک تجزیہ کار اورکالم نگار ہیں کہا کہ بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں مودی کے اقدامات نے ملک کی جمہوری ساکھ کو مجروح کیا۔
ادھر مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ جموں وکشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ ایک متنازعہ علاقہ ہے اور بھارت یکطرفہ طور پر اسکی یہ حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان نے سرینگر میں ایک بیان میں کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادیں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ جموں وکشمیر ایک تصفیہ طلب تنازعہ ہے اور بھارت گزشتہ برس پانچ اگست اور اسکے بعد اٹھائے جانے والے اپنے اقدامات کے حوالے سے دنیا کو قائل کرنے میں ناکام رہا ہے۔