قومی اسمبلی ، عالمی برادری پاکستان کی اقتصادی کامیابیوں کی معترف ہے،راؤ اجمل
30 مئی 2017 (18:46)
0

قومی اسمبلی نے آج نئے بجٹ پر بحث پھر شروع کی ۔
بحث میں حصہ لیتے ہوئے رائو محمد اجمل خان نے کہا کہ ممتاز عالمی مالیاتی ادارے وزیراعظم محمد نواز شریف کی زیر قیادت ملک کی جانب سے حاصل کردہ اقتصادی کامیابیوں کو سراہ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ میں کافی حد تک کمی آئی ہے اور آئندہ سال کے اختتام تک اس کا مکمل خاتمہ ہوجائے گا۔
غوث بخش مہر نے کہا کہ حکومت کاشتکاروں کو ریلیف فراہم کرنے کے لئے کھادوں کی قیمت میں کمی کرے۔
شاہد ہ اختر علی نے کہا کہ حکومت ایک پالیسی تیار کرے تاکہ غریبوں کی زندگیوں میں بہتری لائی جاسکے۔ انہوںنے کہا ملک میں سرمایہ کاری کو راغب کرنے کیلئے کوششیں کی جانی چاہئیں۔
مہراشتیاق احمد نے کہا کہ حزب اختلاف کو بائیکاٹ کرنے کی بجائے حکومت کے ساتھ بیٹھنا چاہیے تاکہ قومی معیشت کیلئے مستقبل کا لائحہ عمل مرتب کیا جاسکے۔
مولانا عامر زمان نے کہا کہ پسماندہ علاقوں کی ترقی کو ترجیح دینی چاہیے۔
شاہد ہ اختر علی نے کہا کہ حکومت ایک پالیسی تیار کرے تاکہ غریبوں کی زندگیوں میں بہتری لائی جاسکے۔ انہوںنے کہا ملک میں سرمایہ کاری کو راغب کرنے کیلئے کوششیں کرنی چاہئیں۔
مہراشتیاق احمد نے کہا کہ حزب اختلاف کو بائیکاٹ کرنے کی بجائے حکومت کے ساتھ بیٹھنا چاہیے تاکہ قومی معیشت کیلئے مستقبل کا لائحہ عمل مرتب کیا جاسکے۔
مولانا عامر زمان نے کہا کہ پسماندہ علاقوں کی ترقی کو ترجیح دینی چاہیے۔
چوہدری جعفر اقبال نے کہا کہ حزب اختلاف کی جماعتیں حکومت کے معاشی ویژن اورپالیسیوں سے خوف زدہ ہیں۔
اس سے پہلے قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے نکتہ اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہ بجٹ تجاویز پر اسی صورت میں تقریر کریں گے کہ اس کی تقریر کو سرکاری ذرائع ابلاغ پر براہ راست نشر کیا جائے گا۔
قائد حزب اختلاف کے نکات اعتراض کاجواب دیتے ہوئے دفاعی پیداوار کے وزیر رانا تنویر نے کہا کہ سرکاری ذرائع ابلاغ صرف وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر براہ راست نشرکرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قائد حزب اختلاف نے جمہوری نظام کی مضبوطی کیلئے اہم کردار ادا کیا ہے اور انہیںایسی جماعت کی تقلید نہیں کرنی چاہیے جو جمہوریت اور پارلیمنٹ کا کوئی احترا م نہیں کرتی۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومت کوبجٹ اجلاس بامعنی بنانے کیلئے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔
بعد میں حزب اختلاف نے بجٹ پر قائدحزب اختلاف کی تقریر براہ راست نشرکئے جانے کی اجازت نہ دینے پراحتجاجاً ایوان سے واک آئوٹ کیا۔
ایوان کااجلاس اب کل صبح گیارہ بجے پھر ہوگا۔