ایوان بالا میں بجٹ پر بحث، غوث محمد نیازی کی اچھابجٹ پیش کرنے پر حکومت کی تحسین۔

چیئرمین وارکان سینیٹ کی مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کی مذمت
30 مئی 2017 (18:41)
0

ایوان بالا میں بجٹ پر بحث شروع کرتے ہوئے سینیٹر عبدالقیوم نے علم پر مبنی معیشت کے فروغ پر زور دیا تاکہ ملک کو آگے لے جایا جاسکے۔

عائشہ رضا نے کہا کہ بجٹ تمام فریقین کی خواہشات اور توقعات پر پورا اترتا ہے، انہوں نے کہاکہ مالیاتی خسارہ کم ہوا ہے جبکہ مجموعی ملکی پیداوار کی شرح پانچ اعشاریہ دو آٹھ فیصد تک پہنچ گئی ہے جو پچھلے دس برسوں میں بلند ترین شرح ہے۔
میاں عتیق نے کہا کہ بجٹ میں عام آدمی کو کوئی ریلیف نہیں دیا گیا ہے۔
اورنگزیب خان نے کہا کہ فاٹا کے عوام کو سود سے پاک قرضے فراہم کئے جانے چاہئیں۔
طاہر حسین مشہدی نے کہا کہ بجٹ دستاویز تیار کرتے ہوئے زمینی حقائق کو مد نظر نہیں رکھا گیا۔
غوث محمد نیازی نے اچھابجٹ پیش کرنے پرحکومت کوسراہا۔
فرحت اﷲ بابر نے کہا کہ بجٹ سے شہریوں کے شہری اور انسانی حقوق متاثر ہوئے ہیں کیونکہ حکومت نے انسانی حقوق کے قومی کمیشن کو انسانی حقوق کی وزارت کے ماتحت کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فاٹا کے لئے کوئی رقم مختص نہیں کی گئی۔
فرحت اللہ بابر کو جواب دیتے ہوئے تعلیم و تربیت کے وزیرمملکت بلیغ الرحمان نے کہاکہ حکومت نے فاٹا یونیورسٹی کے قیام کے لئے بجٹ میں کافی رقم مختص کی ہے۔
سینٹ کے چیئرمین اور اراکین نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم میں حالیہ اضافے کی مذمت کی ہے۔
انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی جانب سے ریاستی دہشت گردی پر عالمی برادری کی خاموشی پر افسوس کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی آرمی چیف کی جانب سے بھارتی میجر کو ایوارڈ دینا انسانیت کی تذلیل ہے اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو اس کا نوٹس لینا چاہئیے۔
ایوان کا اجلاس کل دن گیارہ بجے ہو گا۔