نوازشریف نے کہا کہ تجارت،سرمایہ کاری اور سائنسی اشتراک خارجہ پالیسی کے اسٹریٹجک ستون ہونے چاہئیں۔

وزیراعظم کا ہمسایہ ممالک کیساتھ پرامن بقائے باہمی کے عزم کا اعادہ
30 جون 2017 (20:39)
0

وزیراعظم نوازشریف نے پر امن ہمسائیگی اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ تمام مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے عزم کا اعادہ کیاہے۔

انہوں نے یہ بات جمعہ کے روز دفتر خارجہ کے دورے کے دوران کہی جہاں مشیر خارجہ سرتاج عزیز، سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ اور دیگر اعلیٰ حکام نے انہیں ملکی خارجہ پالیسی کے مختلف پہلوئوں سے آگاہ کیا۔
وزیراعظم نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کی ہدایت کی۔
انہوں نے بھارتی سیکورٹی فورسز کی جانب سے بے گناہ کشمیریوں پر مظالم سے متعلق امریکہ بھارت مشترکہ بیان پر عالمی برادری مکمل خاموشی افسوس ظاہر کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ تجارت، سرمایہ کاری اور سائنسی اشتراک پاکستان کی خارجہ پالیسی کے اسٹرٹیجک ستون ہونے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ اپنی مسلسل شراکت داری کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے امریکی کے ساتھ اسٹرٹیجک مذاکرات کی بحالی پر اطمینان ظاہر کیا۔
وزیراعظم نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی بے مثال کردار اور قربانیوں کو اجاگر کرنے کی اہمیت پرزور دیا۔انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کرنے کی بھی ضرورت ہے۔
ا نہوں نے افغانستان کے بارے میں اقدامات اور پروگراموں کی تیاری کی ہدایت کی۔ انہوں نے پاک افغان تعلقات بہتر بنانے میں چین کے کردار کو سراہا۔ وزیراعظم نے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس کے موقع پر صدر اشرف غنی سے اپنی حالیہ ملاقات اور سرحد پار دہشتگردی کی روک تھام کیلئے دوطرفہ اور طار فریقی نظام وضع کرنے کیلئے اپنے معاہدے سے متعلق بھی یاد دہانی کرائی ۔
نوازشریف نے چین کے ساتھ سٹرٹیجک شراکت داری اقتصادی راہداری کے آغاز روس کے ساتھ مضبوط تعلقات اور وسط ایشیائی ممالک کے ساتھ تعلقات میں نمایاں بہتری پر بھی اطمینان ظاہر کیا جس کے باعث پاکستان کو شنگھائی تعاون تنظیم کی رکنیت ملی ہے۔