نواز شریف نے پی پی اور ایم کیو ایم پر زور دیا کہ وہ صوبے میں قیام امن کیلئے اپنے اختلافات طے کریں۔

کراچی آپریشن سے شہر میں امن وامان کی صورتحال بہتر ہوئی:وزیراعظم
30 جنوری 2015 (17:41)
0

کراچی میں اعلیٰ سطح کے ایک اجلاس میں شہر میں امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔
وزیراعظم نواز شریف نے اجلاس کی صدارت کی۔
سندھ کے گورنر ڈاکٹر عشرت العباد ، وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ ، وفاقی وزراء اسحق ڈار ، چوہدری نثار علی خان ، صوبائی کابینہ کے ارکان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سربراہوں نے اجلاس میں شرکت کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے سے وضع کیے گئے نیشنل ایکشن پلان سے ملک میں دہشت گردی کا خاتمہ ہوگا۔
کراچی آپریشن کا حوالہ دیتے ہوئے نوازشریف نے کہا کہ اس سے شہر میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے میں مدد ملی ہے۔
وزیراعظم نے ایم کیوایم کے مقتول کارکنوں سہیل احمد ' فراز عالم اور ریحان کے سوگوار اہل خانہ سے ملاقات بھی کی اور ان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔
اس موقع پر ایم کیو ایم کے رہنمائوں حیدر عباس رضوی اور قمر منصور نے کراچی کا دورہ کرنے اور ان کے مسائل سننے پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔
وزیر اعظم نواز شریف نے پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ پرزور دیاہے کہ وہ صوبے میں قیام امن کے لئے اپنے اختلافات طے کریں۔
انہوں نے جمعہ کو کراچی سٹاک ایکسچینج کے دورے کے بعد کراچی میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے پارٹی کارکنوں کے قتل پر تشویش ظاہر کی انہوں نے کہا کہ پولیس ان واقعات کی تحقیقات کرکے تیس دن کے اندر رپورٹ پیش کرے گی۔
نواز شریف نے کہا کہ حکومت سندھ میں تمام سیاسی جماعتوں کے تحفظات دور کرے گی انہوں نے کہا کہ د شمن پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان عدم اعتماد کا فائدہ اٹھاسکتا ہے انہوںنے دونوں جماعتوں کے درمیان بداعتمادی کے خاتمے کے لئے وفاقی حکومت کے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔
وزیراعظم نے کہا کہ معیشت درست سمت میں گامزن ہے انہوں نے امید ظاہر کی کہ توانائی کا بحران موجودہ حکومت کے دور میں ختم ہوجائے گا انہوں نے کہا کہ مائع قدرتی گیس کی درآمد دوماہ میں شروع ہوگی جو صنعتوں اور بجلی گھروں کو فراہم کی جائے گی انہوں نے کہا کہ حکومت توانائی بحران پر قابو پانے کے لئے گیس سے بجلی پیداکرنے کے پلانٹ لگانے پر کام کر رہی ہے۔