مشیر خارجہ نے کہاہے کہ بھارت اور امریکہ کے درمیان ایٹمی معاہدے پر عمل درآمد سے کم ازکم دفاعی صلاحیت پر برے اثرات مرتب ہوںگے۔

عالمی برادری جنوبی ایشیا میں تزویراتی توازن پیداکرنےمیں اپنا کرداراداکرے:پاکستان
30 جنوری 2015 (10:26)
0

پاکستان نے کہا ہے کہ اسے اپنی قومی سلامتی کے مفادات کے تحفظ کا حق حاصل ہے اور اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے تمام اقدامات کئے جائیں گے۔یہ بات قومی سلامتی اور خارجہ امور کے بارے میں وزیراعظم کے مشیر سرتاج عزیز نے اسلام آباد میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ جنوبی ایشیا میں تزویراتی توازن اور استحکام پیدا کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔

سرتاج عزیز نے کہا کہ بھارت اور امریکہ کے درمیان ایٹمی معاہدے پر عمل درآمد سے کم ازکم دفاعی صلاحیت پر برے اثرات مرتب ہوںگے۔مشیر نے کہا کہ امریکہ کی بھارت کو اسلحہ کی فروخت سے جنوبی ایشیا میں تزویراتی توازن خراب نہیں کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے خطے میں اسلحہ کی دوڑ شروع ہوسکتی ہے۔نیوکلیئر سپلائر گروپ میں بھارتی شمولیت کی امریکی حمایت سے متعلق سرتاج عزیز نے کہا کہ اس سے جنوبی ایشیا میں پہلے سے ٹوٹ پھوٹ کے شکار تزویراتی استحکام کے ماحول کو مزید نقصان پہنچے گا۔


انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے نیو کلیئر سپلائر گروپ کی ساکھ متاثر ہوگی اور ایٹمی عدم پھیلائو کا نظام کمزور ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اب بھی اس حوالے سے امتیازی پالیسیوں کا مخالف ہے۔مشیر خارجہ نے کہا کہ تمام رکن ملکوں کی جانب سے تعاون پر مبنی اجتماعی اقدامات دہشت گردی کے عالمی خطرے سے موثر طور پر نمٹنے کیلئے ناگزیر ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کیلئے عالمی برادری کاایک اہم ملک ہے اور دوسرے ملکوں سے اسی قسم کے عزم کی توقع رکھتاہے۔


اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کیلئے صد ر اوباما کی جانب سے بھارت کی حمایت پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سرتاج عزیز نے کہا کہ بھارت کشمیر سے متعلق عالمی ادارے کی قراردادوں کی مسلسل خلاف ورزی کی وجہ سے سلامتی کونسل میں خصوصی درجے کیلئے کسی بھی طرح اہل نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان میں اضافے کی تجاویز سے سلامتی کونسل میں اصلاحات کے اجتماعی مقاصد کو نقصان پہنچے گا۔