چین پاکستان اقتصادی راہداری کے پروجیکٹ ڈائریکٹر نے ریڈیو پاکستان سے گفتگو میں بتایا کہ راہداری کا دوسرا مرحلہ اقتصادی زونز کے قیام پر مشتمل ہے ۔

controls_toggle
00:00

00:00
player_volume
29 جون 2017 (12:42)
0

چین پاکستان اقتصادی راہداری کے مشرقی اور مغربی روٹس 2019 کے آغاز میں مکمل ہو جائیں گے ۔چین پاکستان اقتصادی راہداری کے پروجیکٹ ڈائریکٹر حسن داؤد نے یہ بات ریڈیو پاکستان کی نمائندہ صوفیہ صدیقی سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے پہلے مرحلے میں بنیادی ڈھانچے ، ریلویز اور توانائی کے شعبوں سے متعلق منصوبے شامل ہیں ۔ توقع ہے کہ یہ منصوبے سال کے آخر تک مکمل ہو جائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کا دوسرا مرحلہ اقتصادی زونز کے قیام پر مشتمل ہے جن سے ملک کے صنعتی شعبے کو فروغ ملے گا۔
حسن داؤد نے کہا کہ فاٹا سمیت تمام صوبوں میں نو صنعتی زونز قائم کئے جائیں گے انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومتیں صنعتی زونز میں دلچسپی لے رہی ہیں جس سے آگے چل کر پاکستان کی تجارت کو فروغ ملے گا۔حسن داؤد نے کہا کہ اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری کے خواہاں مقامی سرمایہ کاروں کو خصوصی مراعات دی جائیں گی۔

پراجیکٹ ڈائریکٹر نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت تمام منصوبوں سے ملک میں ترقی کا نیا دور شروع ہو گا اور روزگار کے مواقع پیدا ہونگے
انہوں نے اس اعتماد کا ااظہار کیا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری سے پاکستان اور چین کے درمیان عوامی سطح پر روابط اور تعلیمی شعبے میں تعاون کو بھی فروغ ملے گا۔اقتصادی راہداری کے تحت بلوچستان کی ترقی سے متعلق ایک سوال پر پروجیکٹ ڈائریکٹر نے کہا کہ گوادر خطے کا مرکز بن جائے گا۔
حسن داؤد نے ریڈیو پاکستان کی وسیع تر رسائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ابلاغ کے اس ذریعے کی اہمیت اور افادیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔