نواز شریف نے کہاکہ اقتصادی راہداری ایک نیا تصور ہے جو مشترکہ اہداف اور امنگوں کے مطابق ترقی پر مبنی ہے۔

اقتصادی راہداری پاکستان اور خطے میں ترقی،خوشحالی اور امن لائیگی:وزیراعظم
29 اگست 2016 (20:15)
0

وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری 21ویں صدی میں جنوبی ایشیا کے لئے ایک انتہائی اہم اقتصادی منصوبہ ہے۔
انہوں نے پیر کے روز اسلا م آباد میں پاک چین فرینڈ شپ سنٹر میں اقتصادی راہداری سربراہ اجلاس کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ مل کر کام کرنے سے ہم اپنے عوام اور پورے خطے میں ترقی ، خوشحالی اور امن واستحکام لاسکتے ہیں۔
وزیراعظم نے کہاکہ ماضی میں ہمارا خطہ بڑے پیمانے پر تنازعات اور مشکلات کا شکار رہا اور اب وقت آگیا ہے کہ ہم غربت ، بے روزگاری اور پسماندگی جیسے مسائل کا خاتمہ کرکے خطے کی تاریخ میں ایک نئے دور کا آغاز کریں۔
نواز شریف نے کہاکہ چین پاکستان اقتصادی راہداری ایک نیا تصور ہے جو مشترکہ اہداف اور امنگوں کے مطابق ترقی پر مبنی ہے۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان نے تمام عالمی فورمز پر ہمیشہ چین کی حمایت کی ہے اور چین عالمی برادری میں پاکستان کے وقار اور مفادات کا بھرپور محافظ رہا ہے
وزیراعظم نے کہاکہ چین پاکستان اقتصادی راہداری معاشی ترقی اور عالمی اقتصادی تعاون کاایک منفر د نمونہ ہوگا۔ انہوںنے کہا کہ 46 ارب ڈالر اس کی اقتصادی قدر ہے جبکہ اس منصوبے کی مجموعی اہمیت اور اثرات اس سے کہیں زیادہ گہرے اور دور رس ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں ریلوے کے منصوبوں پر دس ارب ڈالر سے زائد خرچ کئے جائیںگے جبکہ ملک میں توانائی کے شعبے میں 35 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی جارہی ہے۔
نواز شریف نے کہاکہ چین پاکستان اقتصادی راہداری سے ملک کے تمام علاقوں کو فائدہ ہوگا۔
سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے منصوبہ بندی اورترقی کے وزیر احسن اقبال نے کہاکہ 46 ارب ڈالر کے اقتصادی راہداری منصوبے سے پاک چین روابط میںایک نئے باب کا آغاز ہوگا جس کا مقصد سیاسی تعلقات کو سٹرٹیجک اقتصادی تعلقات میں تبدیل کرنا ہے۔
منصوبے کی چیدہ چیدہ تفصیلات بتاتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہاکہ 18 ارب ڈالر مالیت کے کئی منصوبوں پر عملدرآمد جاری ہے جبکہ 17 ارب ڈالر کے دیگر منصوبے منظوری کے مراحل میں ہیں جن پر مستقبل قریب میں عملدرآمد شروع ہوجائے گا۔
احسن اقبال نے کہاکہ کوئٹہ ، گوادر شاہراہ اس سال مکمل کرلی جائے گی جبکہ مغربی روٹ کے تحت میں شامل دیگر شاہراہیں د و سال کے عرصے میں مکمل کر لی جائیں گی۔
احسن اقبال نے کہا کہ ہم 2018ء تک چین کی مدد سے ایک سٹیلائٹ بھی مدار میں بھیجنے پر کام کررہے ہیں۔
پاکستان میں چین کے سفیر سی وی ڈونگ نے اپنے خطاب میں کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ چینی صدر کے ایک راستہ ایک منزل اقدام کا ایک آزمائشی منصوبہ ہے جس کا مقصد امن اور تعاون کا فروغ اور مشترکہ خوشحالی کا حصول ہے۔
اس سے پہلے وزیراعظم نے چین پاکستان اقتصادی راہداری سے متعلق سربراہ اجلاس اور نمائش کا افتتاح کیا اور مختلف سٹال دیکھے۔
اس اجلاس کا اہتمام ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ملک میں سرمایہ کاری اور تجارت کے مواقع سے آگاہ کرنے کیلئے کیا گیا ہے ۔ مختلف ملکی اور غیر ملکی کمپنیاں سربراہ اجلاس میں شریک ہیں۔