مشیرامورخارجہ سرتاج عزیزنے دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینےکیلئےپاکستان اورامریکہ کےدرمیان تمام سطحوں پرباہمی اعتمادسازی کی ضرورت پر زوردیاہے۔

28 جنوری 2014 (10:14)
0

واشنگٹن میں سٹرٹیجک مذاکرات کے آغاز پر اپنے افتتاحی کلمات میں انہوں نے کہا کہ امریکہ کو پاکستان کے سیکورٹی تحفظات کو ان کے مطابق اہمیت دینی چاہئے اور اسے افغانستان اور دہشتگردی کی مخصوص نظروں سے نہیں دیکھنا چاہئے۔



مشیر امور خارجہ نے کہا کہ پاکستان کے سیکورٹی تحفظات کو 1990ء کے آغاز میں پاکستان کے بھرپور تعاون کے ساتھ سویت یونین کو شکست کے بعداور نائن الیون کے واقعے کے بعد امریکہ کے افغانستان پر حملہ کے وقت توجہ نہ دی گئی۔



سرتاج عزیز نے کہا نیٹو کے انخلاء کے بعد افغانستان میں اقتدار کی خوشگوار منتقلی ہونی چاہئے اور ماضی کی غلطی نہیں دہرائی جانی چاہئے۔



انہوں نے کہا کہ پاکستان جامع مصالحتی عمل کے تحت افغانستان میں امن اور استحکام کیلئے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔



مشیر امور خارجہ نے کہا کہ امریکہ کو بھارت سے متعلق بھی پاکستان کے تحفظات دور کرنے چاہئیں اور دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کیلئے تصفیہ طلب مسئلہ کشمیر حل کرنے میں مدد دینی چاہئے۔



امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے پاکستان کے ساتھ طویل مدتی تعلقات کے امریکی عزم کا اعادہ کیااورپاکستان میں اقتصادی بہتری کیلئے وزیراعظم نواز شریف کی پالیسیوں کی امریکی حمایت کا اظہار کیا۔



انہوں نے کہا کہ امریکہ اقتصادی ترقی اور علاقائی سلامتی سمیت باہمی دلچسپی کے شعبوں میں پاکستان کے ساتھ وسیع ترسٹرٹیجک تعاون کو مزید گہرا اور مستحکم کرنا چاہتا ہے۔