پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نےکہا تمام ہمسایہ ملکوں کےساتھ باہمی احترام پرمبنی پرامن تعلقات ناگزیر ہیں۔

28 جنوری 2014 (11:51)
0

وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ پاکستان نے تمام ہمسایہ ملکوں کے ساتھ خوشگوار تعلقات کو یقینی بناکرخطے میں امن و استحکام کا ایک نیا دور شروع کرنے کا عزم کررکھا ہے۔


 


انہوں نے پیر کے روز اسلام آباد میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت سمیت تمام ہمسایہ ملکوں کے ساتھ باہمی احترام پر مبنی پرامن تعلقات ناگزیر ہیں۔


 


انہوں نے کہا کہ پاکستان کا امن پسند ملک کے طور پر تشخص بحال کرنے کیلئے مشترکہ کوششیں کرنے کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ اس مقصد کیلئے ارکان پارلیمنٹ '   سول سوسائٹی ' ایگزیکٹو ' عدلیہ اور دفاعی قوتوں کواپنا کرداراداکرنا ہوگا۔


 


وزیراعظم نے ملک کی صورتحال کے حوالے سے کہا کہ پاکستان دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے تک امن ' ترقی اور استحکام کی جانب گامزن نہیں ہوسکتا۔


 


انہوں نے کہا کہ ملک کی غیر معمولی صورتحال سخت فیصلوں کا تقاضا کرتی ہے۔


 


انہوں نے کہا کہ حکومت کی مشترکہ کوششوں سے کراچی کی صورتحال میں بہتری آئی ہے اور جرائم کی شرح میں چالیس فیصد کمی آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اقتصادی محاذ پر کیے گئے اقدامات کے ثمرات مل رہے ہیں اور اقتصادی اشاریئے مثبت ہیں۔


 


وزیراعظم نے توانائی کی صورتحال کے حوالے سے کہا کہ اس سال سسٹم میں سترہ سو میگاواٹ بجلی کے اضافے سے بجلی کی دستیابی بہتری ہوئی ہے اور بجلی کی تقسیم کا نظام بھی بہتر بنایا گیا ہے۔


 


انہوں نے کہا کہ مزید منصوبوں پر کام جاری ہے اور توقع ہے کہ قومی گرڈ میں جلد مزید آٹھ ہزار میگاواٹ بجلی شامل کرلی جائے گی۔


 


 نوازشریف نے کہا کہ آئندہ دس سے بارہ سال کے ٹو' کے تھری سول نیو کلیئر پاور پراجیکٹ' دیامر بھاشا ڈیم ' گڈانی کے کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے ' نندی پور بجلی منصوبے ' جامشورہ پاور پراجیکٹ'CASA-1000 اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں سے نظام میں 36 ہزار میگاواٹ بجلی کا اضافہ ہوگا۔


 


انہوں نے کہا جاپان نے کراچی سرکلر ریلوے میں دو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پر آمادگی ظاہر کی ہے ' لاہور'ملتان ' کراچی موٹروے کا منصوبہ بنایا جارہا ہے جبکہ اقتصادی تجارتی راہداری پر جو چین کے شہر کاشغر کو پاکستان میں خنجراب اور گوادر سے ملائے گی کام شروع کر دیا گیاہے۔


 


اس سے پہلے وزیرخزانہ اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے اجلاس کو حکومت کی اقتصادی اور سلامتی کی پالیسیوں کے حوالے سے بریفنگ دی۔


 


اسحاق ڈار نے کہا کہ حکومت کی مثبت پالیسیوں سے سرمائے کی عالمی منڈی تک رسائی کے امکانات بڑھ گئے ہیں اور تمام بین الاقوامی مالیاتی ادارے پاکستان کے ساتھ بات چیت کررہے ہیں۔


 


چوہدری نثار علی نے کہا کہ کابینہ کی منظوری کے بعد قومی داخلی سلامتی پالیسی پر عملدرآمد کیا جائے گا۔