نواب وقارالملک سرسیدکی تحریک سےمتاثرہوکرانکےرفقا میں شامل ہو گئے۔انکی سفارش پرریاست حیدرآبادمیں ناظم دیوانی کےعہدےپرفائز ہوئے۔


 

28 جنوری 2014 (09:46)
0

انہوں نے اپنی ذہانت وقابلیت سے بڑانام پیدا کیا



نواب وقارالملک 24مارچ 1841کوپیداہو ئے۔آپ کے والدکانام شیخ فضل حسین تھا۔نواب وقارالملک امروہہ اترپردیش کےایک گائوں میں پیدا ہوئے۔ ان کی تعلیم روایتی انداز پر ہوئی۔



 سرسید احمد کی تحریک سے متاثر ہو کر انکے رفقا میں شامل ہو گئے۔ سرسید کی سفارش پرریاست حیدرآباد میں ناظم دیوانی کے عہدے پر فائز ہوئے۔


 


 اپنی ذہانت و قابلیت سے بڑا نام پیدا کیا لیکن سازشوں کیوجہ سے حیدرآباد چھوڑنا پڑا۔ کچھ ہی عرصہ بعد دوبارہ بلا لیے گئے۔ اس بار انہوں نے سرکاری امور میں نہایت نفیس اصلاحات کیں۔ حسن خدمت کے صلہ میں سرکار آصفیہ سے وقار الدولہ اور وقار الملک کے خطابات ملے۔ 1919 میں پنشن لیکر علی گڑھ چلے گئے اور ای۔ اے۔ او کالج کی خدمت کرتے ہوئے باقی عمر صرف کر دی۔


 



وقار الملک"سائنٹفک سوسائٹی"کے ممبر بنے اور"تہذیب الاخلاق" کے مہتمم بھی رہے۔ انکے مضامین تہذیب الاخلاق میں شائع ہوئے۔ کچھ ترجمے بھی کیے۔"نپولین کی سرگزشت" انگریزی کتاب"فرنچ ایولیشن اینڈ نپولین"کا ترجمہ ہے۔ ان کا انتقال 27  جنوری 1917کو ہو ا۔