ڈاکٹر عارف علوی کی طرف سے اٹھائے گئے نکتہ اعتراض پر وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ فوجی کارروائی کا فیصلہ مشاورت سے کیا جائے گا۔
 

28 فروری 2014 (15:21)
0

ڈاکٹر عارف علوی کی طرف سے اٹھائے گئے نکتہ اعتراض پر وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ قبائلی علاقوں میں نہ تو فوجی کارروائی کی جا رہی ہے اور نہ ہی اس حوالے سے ابھی کوئی فیصلہ کیا گیا ہے۔



انہوں نے کہا کہ فوجی کارروائی کا فیصلہ مشاورت سے کیا جائے گا۔
قبائلی علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے لوگوں کی مشکلات کے بارے میں وزیرداخلہ نے یقین دلایا کہ اس حوالے سے اگلے چند روز میں ایک پالیسی لائحہ عمل وضع کیا جائے گا تاکہ ان لوگوں کو ہرممکن سہولت فراہم کی جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری انتہائی کوشش ہے کہ حالیہ دنوں میں کی جانے والے ٹارگٹڈ کارروائی میں کوئی عام شہریوں کا کوئی جانی نقصان نہ ہو۔
خزانہ کے پارلیمانی سیکرٹری رانا محمد افضل نے وقفہ سوالات کے دوران ایوان کو بتایا کہ بنکاری نظام کو شرعی اصولوں کے مطابق بنانے کے لئے ایک رہبر کمیٹی قائم کی گئی ہے جو اس حوالے سے تجاویز اور سفارشات تیار کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ بیس فیصد مالیاتی معاملات اسلامی بنکاری پر منتقل کئے گئے ہیں۔
 انہوں نے کہاکہ کہ مالیاتی نظام کو بتدریج اسلامی اصولوں کے مطابق بنانے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
حکومت کی نجکاری پالیسی سے متعلق رانا افضل نے کہا کہ آئل اینڈ گیس ڈیویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ اور پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ کی نجکاری نہیں کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ متعلقہ شراکت داروں کی مشاورت سے پی آئی اے اور پاکستان اسٹیل ملز سمیت مختلف اداروں کی تنظیم نو کا آغاز کیا جا رہا ہے۔
منصوبہ بندی اور ترقی کے وزیر احسن اقبال نے ایوان کو بتایا کہ حکومت صوبائی حکومتوں اور دوسرے شراکت داروں کے ساتھ قومی سماجی سربراہ اجلاس منعقد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ سماجی شعبے میں ترقی کے عمل کو تیز کیا جا سکے اور میلینیم ترقیاتی اہداف حاصل کئے جا سکیں۔


 


ایوان کا اجلاس پیر کی سہ پہر چار بجے تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔