سرتاج عزیز نے کہا کہ پاکستان ان تمام ممکنہ حرکات و سکنات پر نظر رکھے ہوئے ہے جو کہ بھارت معاہدے پر عملدرآمد کے حوالے سے کرسکتا ہے۔

سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ منسوخی جنگ کا اقدام ہوگا:سرتاج
27 ستمبر 2016 (20:43)
0

مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ منسوخی جنگ کا اقدام ہوگا' منگل کے روز سینٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا یہ معاہدہ بین الاقوامی ہے جس پر پاکستان اور بھارت نے اکٹھے دستخط کیے ہیں اس لئے اسے مشترکہ طور پر ہی منسوخ کیا جاسکتا ہے۔
سرتاج عزیز نے کہا کہ پاکستان ان تمام ممکنہ حرکات و سکنات پر نظر رکھے ہوئے ہے جو کہ بھارت معاہدے پر عملدرآمد کے حوالے سے کرسکتا ہے انہوں نے کہا ہم نے اس سلسلے میں ایک دستاویزی ثبوتوں کا کتابچہ تیار کیا ہے جو سلامتی کونسل کے مستقل پانچ اراکین' ورلڈ بینک اور دیگر اداروں کو دیا جائے گا تاکہ بھارت کو اس کے اثرات سے خبردار کیا جاسکے۔
اس سے پہلے چیئرمین میاں رضا ربانی نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ منسوخی جنگ کی کوشش ہوگی انہوں نے کہا پاکستان کو اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ سارک میں بھارت کی کیا ضرورت ہے انہوں نے کہا پاکستان میں بھارتی فلمیں دکھانے اور بھارت کے ساتھ آزادانہ تجارتی معاہدے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
شیری رحمن نے کہا کہ بھارت نے پاکستان کے خلاف آبی دہشت گردی کی پالیسی اپنالی ہے اور اگر بھارت ایسا کرے گا تو یہ غیرقانونی ہوگا اور چین کیلئے مثال ہوگی کہ وہ بھیء براہما پترا کے پانی کا رخ موڑ سکتا ہے۔

قائدحزب اختلاف اعتزازاحسن نے کہاکہ اگر بھارت نے یکطرفہ طورپر سندھ طاس معاہدے کو منسوخ کیا تو پاکستان کے عوام اسے اقدام جنگ تصور کریںگے۔
مشاہد حسین سید نے کہاکہ پانی پاکستان کیلئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے انہوں نے کہاکہ بھارت وزیراعظم نریندرمودی کی قیادت میں ایک غیرذمہ دار اور سرکش ملک بن گیا ہے انہوں نے پاکستان کی بھارت سے متعلق پالیسی پرنظر ثانی کرنے کی ضرورت پرزوردیا ۔
سراج الحق نے کہاکہ بھارت کے ساتھ تمام معاہدوں پر نظرثانی کی جانی چاہیے انہوں نے کہاکہ بھارت پاکستانی زمینوں کو بنجربنانے کیلئے افغان حکومت کے تعاون سے دریائے کابل پر ڈیم بھی تعمیر کررہا ہے انہوں نے کہاکہ فلموں کے ذریعے بھارتی ثقافتی یلغار کو بھی روکا جاناچاہیے۔
مظفرحسین شاہ نے کہاکہ کوئی بھی فریق یکطرفہ طورپر سندھ طاس معاہدے کو منسوخ نہیں کرسکتا ۔
صلاح الدین TIRMIZI نے کہاکہ بھارت نہ تو پاکستان سے جنگ لڑسکتا ہے اور نہ ہی یکطرفہ طورپر سندھ طاس معاہدے کو منسوخ کرسکتا ہے۔
سحرکامران نے کہاکہ بھارت پرتشدد طریقوں کے ذریعے پاکستان پردبائو بڑھانا چاہتا ہے ۔

ایوان نے منگل کے روز پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے صدر کے خطاب پربحث جاری رکھی ۔
بحث میں حصہ لیتے ہوئے تاج حیدر نے کہاکہ حکومت کو ملک میں سرمایہ کاری کیلئے اقدامات کرنے چاہئیں۔
سراج الحق نے کہاکہ ملک قانون کی حکمرانی کے بغیر ترقی نہیں کرسکتا۔
مشاہد اﷲ خان نے کہاکہ شیشے کے گھروں میں بیٹھنے والوں کو دوسروں پر پتھرپھینکنے سے پرہیز کرناچاہیے۔
انہوں نے کہاکہ سابق حکومتوں نے بدعنوانی کے تمام ریکارڈ توڑ دئیے لیکن اب وہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت پر انگلی اٹھارہی ہیں ۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان پیپلزپارٹی سندھ میں عوام کی خدمت کرنے میں ناکام ہوچکی ہے ۔
انہوں نے کہاکہ ایران کے صدر حسن روحانی پاک چین اقتصادی راہداری میں شامل ہوناچاہتے ہیں جوکہ وزیراعظم نوازشریف کی سربراہی میں تیار کی جانے والی خارجہ پالیسی پراعتماد کااظہار ہے ۔

سینٹ کو بتایا گیاہے کہ اعلیٰ تعلیمی کمیشن نے سال16-2015 ء کے دوران پی ایچ ڈی کے 687 وظائف دیئے۔
تعلیم کے وزیر مملکت بلیغ الرحمن نے وقفہ سوالات کے دوران ایوان کو بتایا کہ ان میں 415 وظائف غیر ملکی اور 272 مقامی ہیں جن کی مجموعی لاگت55 کروڑ80 لاکھ روپے ہے۔
انہوں نے کہا کہ سکالرز کی اکثریت بیرون ملک اپنی تعلیم مکمل کرکے واپس پاکستان آجاتی ہے تاہم جو ملک کی خدمت کرنے واپس نہیں آتے ان کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے انہوں نے کہا ہائیرایجوکیشن کمیشن کے پروگرام کے مطابق پی ایچ ڈی سکالرز کو پاکستان واپسی پر لازمی نوکری دی جاتی ہے۔
ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان میں معیار تعلیم کی بہتری کیلئے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں جن میں اساتذہ کی تربیت' انتظامی بہتری اور اعلیٰ تعلیم کیلئے بجٹ کے فنڈز میں اضافہ شامل ہے۔
پارلیمانی امور کے وزیر شیخ آفتاب احمد نے ایوان کو بتایا کہ ملک میں گندم کا تقریباً دو کروڑ پچانوے لاکھ 67 ہزار ٹن ذخیرہ موجو د ہے جو ضرورت سے 41لاکھ67 ہزار ٹن زیادہ ہے کیونکہ سالانہ قومی ضرورت دو کروڑ 54 لاکھ ٹن ہے انہوں نے کہا کہ ملک میں قحط سالی کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔
ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر نے کہا کہ وزیراعظم کے اعلان کردہ کسان پیکیج کے تحت کپاس اور چاول کے کاشتکاروں کیلئے بیس ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جس کا بوجھ وفاقی اور صوبائی حکومتیں برابر برداشت کریںگی۔

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اورافرادی وسائل کی ترقی کے وزیر پیرصدرالدین شاہ راشدی نے ایک سوال کے جواب میں ایوان کوبتایا کہ جمہوریہ کوریا،بحرین اور کویت میں ہنرمندافرادی قوت بھجوانے کیلئے ان ممالک سے مفاہمت کی یادداشتوں پردستخط کئے گئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ حکومت سعودی عرب میں پاکستانی مزدوروں کے معاملے کوموثرانداز میں دیکھ رہی ہے اورامید ہے کہ ان کی تنخواہیں اگلے مہینے اداکردی جائیں گی۔
ایک اور سوال پرتعلیم کے وزیرمملکت بلیغ الرحمان نے ایوان کو بتایا کہ حکومت وزیراعظم یوتھ سکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت50ہزار نوجوانوں کوتکنیکی اورفنی تربیت دے رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ یہ پروگرام ملک بھر میں333سرکاری اورنجی اداروں میں چل رہاہے۔انہوں نے کہاکہ ہنرمندافرادی قوت پاک چین اقتصادی راہداری سے متعلق روزگارکے مواقع سے فائدہ اٹھانے کیلئے تیار ہوگی۔

ایوان کا اجلاس کورم کی کمی وجہ سے ملتوی کردیاگیا ہے اور بدھ کی سہ پہر ساڑھے تین بجے دوبارہ ہوگا۔