مشیر خارجہ نے کہا ہے کہ اگر بھارت معاہدے کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش کرتا ہے تو پاکستان کی طرف سے اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے میں تبدیلی یا اسے ختم نہیں کر سکتا:سرتاج
27 ستمبر 2016 (16:03)
0

مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے میں تبدیلی یا اسے ختم نہیں کر سکتا ۔شیریں مزاری اور دیگر ارکان کی طرف سے ایک توجہ دلاؤ نوٹس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ معاہدے میں اسے معطل کرنے کی کوئی شق شامل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق بھارت یکطرفہ طور پر معاہدے کو ختم نہیں کر سکتا ۔
مشیر خارجہ نے کہا کہ اگر بھارت معاہدے کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش کرتا ہے تو پاکستان کی طرف سے اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اس مسئلے پر عالمی برادری کی حمایت حاصل کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان معاہدے کے خاتمے سے متعلق خطرات کے بارے میں سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان اور عالمی برادری کو آگاہ کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہے۔
سرتاج عزیز نے کہا کہ دونوں ملک سندھ طاس معاہدے کے پابند ہیں اور اس سے یکطرفہ انخلاء کی اجازت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کے باوجود بھی ختم نہیں ہو سکتا ۔

مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا کہ بھارتی قیادت کی طرف سے سندھ معاہدے پر اشتعال انگیز بیانات اور معاہدے کو توڑنا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت کی طرف سے کسی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا اور بھارتی فوج کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں کشمیری عوام پر کئے جارہے مظالم کو بے نقاب کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارتی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین صورتحال اجاگر کرے گا۔