وفاقی حکومت کے ملازمین کو دئیے جانے والے ہاوس بلڈنگ ایڈوانس پر سود ختم کرنے کیلئے اقدامات کرنے کے بارے میں بھی ایک اور قرار داد پاس کی گئی ہے۔

قومی اسمبلی: جموں وکشمیر کو اٹوٹ انگ قرار دینے کے بھارتی دعوے کیخلاف متفقہ مذمتی قرارداد منظور
27 ستمبر 2016 (14:19)
0

قومی اسمبلی میں آج ایک متفقہ قرارداد منظور کی ہے جس میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھارت کے اس دعوے کی مذمت کی گئی کہ جموں وکشمیر اس کا اٹوٹ انگ ہے۔
سید نوید قمر کی طرف سے پیش کی گئی قرارداد میں کہا گیا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کے دوران بھارتی وزیر خارجہ نے اس حقیقت کو نظرانداز کیا کہ جموں وکشمیر ابھی تک اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر ہے اور مقبوضہ کشمیر کا دنیا بھر میں متنازعہ علاقہ تسلیم کیا جاتا ہے۔
ایوان نے عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقے جموں وکشمیر اور پاکستان کی خودمختاری کے ناگزیر حصے بلوچستان کے درمیان فرق واضح کیا۔ ایوان نے خبردار کیا کہ پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث غیرملکی عناصر کو دہشت گردوں کی مالی معاونت اور اس کی پشت پناہی کرنے کی اپنی پالیسیوں کا جائزہ لینا چاہئیے۔
قرارداد میں کہا گیا کہ مودی حکومت کی اس گمراہ کن عقیدے کے ساتھ دھمکیوں کی ایک تاریخ ہے کہ پاکستان کو ان بے گناہ کشمیریوں کی حمایت سے دستبردار ہو جائے گا جنہیں بھارتی فوج کی بربریت کا سامنا ہے۔
ایوان نے کہا کہ امن وترقی اچھی ہمسائیگی کے تعلقات پر منحصر ہے اور تعمیری مذاکرات میں آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہیں جبکہ بھارتی وزیراعظم کی طرف سے دی جانے والی حالیہ
دھمکیوں سے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ ختم نہیں ہو سکتا۔
قرارداد میں کہا گیاہے کہ بھارت کی موجودہ حکومت کی طرف سے ماحول کشیدہ بنانے اور جنگی جنون پیدا کرنا خطے کے امن واستحکام کے مفاد میں نہیں ہے۔

قومی اسمبلی نے ایک اور قرارداد کی بھی منظوری دی جس میں حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ وفاقی حکومت کے ملازمین کو دئیے جانے والے ہاوس بلڈنگ ایڈوانس پر سود ختم کرنے کیلئے اقدامات کرے ۔ یہ قرارداد پروین مسعود بھٹی نے پیش کی تھی۔

قرارداد پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے متحرک اور دیگر ارکان نے ہاوس بلڈنگ ایڈوانس پر سود کے خاتمے اور سرکاری ملازمین کو سود کے بغیر پیشگی رقوم کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کم آمدن ملازمین کے لئے کم لاگت ہاوسنگ کالونیاں بنانے کا بھی مطالبہ کیا۔ارکان نے ملکی معیشت کو سود سے پاک کرنے کیلئے بھی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ سود ایک برائی ہے اور اسلام میں اسکی ممانعت ہے اس لئے اس سے چھٹکارا پانے کی ضرورت ہے۔
وزیر قانون زاہد حامد نے کہا کہ سال1978 سے گریڈ ایک سے پندرہ تک کے سرکاری ملازمین سے ہاوس بلڈنگ پر کوئی سود وصول نہیں کیا جا رہا۔
انہوں نے کہا کہ گریڈ سولہ اور اس سے اوپر کے سرکاری ملازمین سے بھی ہاوس بلڈنگ ایڈوانس پر سود نہیں لیا جا رہا جنہوں نے اپنے جی پی فنڈز پر سود کا دعویٰ نہیں کیا ہے۔