اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کےاجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نوازشریف نے کہا کہ بھارت کی طرف سے خارجہ سیکرٹری سطح کے مذاکرات کی منسوخی سے پاکستان کو مایوسی ہوئی ہے۔

 پاکستان اور بھارت کو مذاکراتی عمل بحال کرنے کی ضرورت ہے: وزیراعظم
27 ستمبر 2014 (15:23)
0

وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اوربھارت کو تنازعات کے حل اور اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے فروغ کیلئے مذاکرات کا عمل جاری رکھنا چاہئے۔نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت کی طرف سے خارجہ سیکرٹری سطح کے مذاکرات کی منسوخی سے پاکستان کو مایوسی ہوئی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں جموں و کشمیر کے بنیادی تنازعے کو حل کرناہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اس مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کیلئے تیار ہے۔ جموں وکشمیر کے عوام کے حق خود ارادیت کی حمایت کرنا ہمارا تاریخی عزم ہے۔افغانستان کے حوالے سے انہوں نے کہا پاکستان کو توقع ہے کہ افغانوں کی سرپرستی میں افغانستان میں مصالحتی عمل آگے بڑھے گا۔


انہوں نے کہا کہ پاکستان گزشتہ تیس برسوں سے لاکھوں افغان پناہ گزینوں کی میزبانی جاری رکھے ہوئے ہے۔وزیراعظم نے غزہ میں اسرائیل کی طرف سے فلسطینیوں کی نسل کشی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کو مسئلہ فلسطین کے ایسے منصفانہ اور پائیدار حل کی حمایت کرنی چاہئے جو عالمی ادارے کی متعلقہ قراردادوں پرمبنی ہو۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ہر طرح کی دہشت گردی اور اسکے عزائم کی مذمت کرتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلائو کی حمایت جاری رکھے گا اور ایٹمی پابندیوں اور کم سے کم دفاعی صلاحیت کی پالیسی پر عمل کرے گا۔پاکستان خطے میں اسلحہ کی کسی دوڑ میں شامل نہیں ہے تاہم وہ ابھرتی ہوئی سلامتی کی صورتحال اور اسلحہ کی تیاری کے حوالے سے غافل بھی نہیں رہ سکتا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان سول ایٹمی ٹیکنالوجی تک مکمل رسائی کا اہل ہے تاکہ بجلی کی قلت پر قابو پایاجائے اور اقتصادی ترقی کو فروغ دیا جائے۔وزیراعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ میں جاری اصلاحات جامع ہونی چاہئیں اور سلامتی کونسل میں اصلاحات تمام رکن ملکوں کے مفادات کی عکاس ہونی چاہئیں۔


انہوں نے پاکستان میں تباہ کن سیلاب کی جانب عالمی برادری کی توجہ بھی مبذول کرائی جس سے سینکڑوں افراد جاں بحق اورلاکھوں بے گھر ہوئے ہیں جبکہ گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔