نئے مالی سال کے بجٹ میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے:ڈار
27 مئی 2017 (17:43)
0

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ نئے مالی سال کے بجٹ میں ترقی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے، غربت کے خاتمے اور عام آدمی کامعیار زندگی بلند کرنے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ انہوں نے یہ بات ہفتہ کے روز اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس میں وفاقی بجٹ 18-2017 ء کے اہم پہلوئوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ اہم وقت ہے کہ سماجی اقتصادی اہداف اور بڑے پیمانے پر اقتصادی استحکام کے حصول کیلئے میثاق معیشت پر اتفاق پیدا کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے بڑے اقتصادی اہداف کا تحفظ اور ان پر خاص توجہ دی ہے ہمیں ملک کے معاشی استحکام کیلئے مل کر سخت محنت کرنا ہوگی۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت آئندہ وفاقی بجٹ بھی پیش کرے گی اور اس سلسلے میں کسی آئینی ترمیم کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
انہوں نے کہاکہ نئے بجٹ میں دفاعی بجٹ کو اہمیت دی گئی ہے اور اس شعبے کیلئے920 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سرکاری شعبے کے ترقیاتی پروگرام کیلئے ایک ہزار ایک ارب روپے مختص کیے گئے ہیں اور صوبوں کے سرکاری شعبے کے ترقیاتی پروگرام کو شامل کرنے کے بعد یہ رقم دو ہزار ایک سو ارب تک پہنچ جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بجٹ کے اہم اہداف میں مجموعی ملکی پیداوار کی چھ فیصد شرح نمو اور افراط زر کو کم کرکے چھ فیصد پر لانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ سال تک قومی گرڈ میں دس ہزار میگاواٹ بجلی شامل کی جائے گی۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ زرعی شعبے کی شرح نمو تین اعشاریہ چار فیصد رہی ہے اور ہمیں ترقی کی اس شرح کو برقرار رکھنے کیلئے سخت محنت کرنا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ساڑھے بارہ ایکڑ سے کم اراضی کے مالک20 لاکھ چھوٹے کاشت کاروں کو نو اعشاریہ نو فیصد شرح منافع پر پچاس ہزار روپے کے قرضے دیئے جائیں گے انہوں نے کہاکہ سیلز ٹیکس میں کمی کے ذریعے کاشتکاروں اور پولٹری مالکان کو بھی ریلیف دیا گیا ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ سماجی تحفظ کیلئے مختص فنڈز بڑھا کر ایک سو اکیس ارب روپے کر دیئے گئے ہیں، بجٹ خسارہ کم کرنے کی غرض سے جاری اخراجات کو افراط زر سے کم سطح پر رکھا جائے گا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ اس بجٹ میں ٹیکس محصولات ستاسی ارب روپے ہیں کیونکہ اس میں مجموعی ٹیکس120 ارب اور33 ارب روپے کا ریلیف شامل ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ بجلی کے صارفین کے لئے تین سو یونٹ تک سبسڈی جاری رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بھی ٹیوب ویلز اور صارفین کیلئے بجلی پر سبسڈی جاری رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ بجٹ کی بنیاد پر روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا جانا چاہیے کیونکہ اس سلسلے میں زیادہ سے زیادہ ریلیف دیا گیا ہے انہوں نے کہاکہ قومی تحفظ خوراک کی وزارت اور صوبائی حکومتوں کو قیمتوں پر نظر رکھنے کیلئے کیا جائے گا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں دو ہزار دس کے 50 فیصد کا ایڈہاک ریلیف الائونس بنیادی تنخواہ میں ضم کرنے کے بعد دس فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کم از کم اجرت چودہ ہزار روپے سے بڑھا کر 15 ہزار روپے کر دی گئی ہے تاہم چودہ سو روپے کے دس فیصد اضافے کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

ادھر وزیر خزانہ نے واضح کیا ہے کہ دودھ پر ٹیکس کی شرح وہی ہے جو گزشتہ سال تھی لہٰذا آئندہ مالی سال میں دودھ کی قیمت میں کوئی اضافہ نہیں ہونا چاہیے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ سماجی ذرائع ابلاغ پر یہ تاثر پیدا کیا جارہا تھا کہ دودھ کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے انہوں نے کہاکہ صارفین کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ تاثر قطعاً غلط ہے۔