وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اسلام آباد میں قومی اسمبلی کے اجلاس میں آئندہ سال کیلئے بجٹ تجاویز پیش کیں۔

آئندہ مالی سال کے5310 ارب 80 کروڑ روپے کےریلیف پر مبنی وفاقی بجٹ کا اعلان
27 مئی 2017 (07:20)
0

آئندہ مالی سال کے 5 ہزار 310 ارب80 کروڑ روپے کے مراعات اور ریلیف پر مبنی وفاقی بجٹ کا اعلان کر دیا گیا ہے۔وزیر خزانہ اسحاق ڈار نےاسلام آباد میں قومی اسمبلی کے اجلاس میں آئندہ سال کیلئے بجٹ تجاویز پیش کیں۔ آئندہ سال کے دوران وسائل کی دستیابی کا تخمینہ چار ہزار681 ارب20 کروڑ روپے لگایا گیا ہے، فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ذریعے ٹیکسوں کی وصولی کا تخمینہ چار ہزار13 ارب روپے لگایا گیا ہے۔

وفاقی بجٹ میں صوبوں کے حصے کا تخمینہ دو ہزار 384 ارب 20 کروڑ روپے لگایا گیا ہے جو ختم ہونے والے مالی سال کے بجٹ سے 11 اعشاریہ چھ فیصد زیادہ ہے۔ آئندہ سال کیلئے ترسیلات زر کا تخمینہ837 ارب80 کروڑ روپے ہے۔بجٹ میں دفاعی اخراجات کیلئے920 ارب روپے سے زائد رقم مختص کی گئی ہے۔
بجٹ میں سرکاری ملازمین کودیئے گئے پچاس فیصدایڈہاک ریلیف الائونس اور مسلح افواج کے اہلکاروں کے سال2009 ء اور 2010 ء کے ایڈہاک الائونسز کو تنخواہ میں ضم کرنے کے بعد بنیادی تنخواہ پر دس فیصد ایڈہاک ریلیف الائونس دینے کی تجویز شامل ہے، مسلح افواج کے اہلکاروں کے لئے ضرب عضب الائونس اس کے علاوہ ہوگا۔
وزیر خزانہ نے پنشن میں دس فیصد اضافے کا بھی اعلان کیا۔کم سے کم تنخواہ چودہ ہزار ماہانہ سے بڑھا کر پندرہ ہزار روپے کر دی گئی ہے۔ملازمین کی مختلف کیٹگریز کے مختلف الائونس بھی بڑھا دیئے گئے ہیں۔وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت سرکاری ملازمین کو ریلیف کے باعث ایک سوپچیس ارب روپے کا اضافی بوجھ برداشت کرے گی۔

آئندہ مالی سال کے لئے وفاقی بجٹ میں پچیس کھرب روپے کا ترقیاتی بجٹ تجویز کیا گیا ہے جو ملک کی تاریخ میں سب سے زیادہ ہے۔وفاقی ترقیاتی اخراجات کا تخمینہ ایک ہزار ایک ارب روپے لگایا گیا ہے جورواں مالی سال کے مقابلے میں پچیس فیصد زیادہ ہے۔صوبوں کے مجموعی سالانہ ترقیاتی منصوبوں کا تخمینہ ایک ہزار ایک سو چالیس ارب روپے لگایا گیا ہے جو موجودہ سال کی نسبت ستائیس فیصد زیادہ ہے۔

آزادجموں وکشمیرکیلئے مختص رقم بارہ ارب سے بڑھا کربائیس ارب روپے کردی گئی ہے جس سے علاقے میں تیزترترقیاتی عمل یقینی ہوگا۔گلگت بلتستان کو بھی اس کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے ختم ہونیوالے سال کے نَوارب روپے کے مقابلے میں پندرہ ارب روپے فراہم کئے جائیں گے۔فاٹا کا ترقیاتی بجٹ اکیس ارب روپے سے بڑھا کرچوبیس ارب پچاس کروڑ روپے کردیا گیاہے۔اعلیٰ تعلیمی کمیشن کو پینتیس ارب روپے ، سماجی شعبے کو ایک سو پینتیس ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں اور آئندہ مالی سال کے دوران انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے کی ترقی کے لئے خصوصی اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔
نئے بجٹ میں بنیادی ڈھانچے کے شعبے کو ترجیح دی گئی ہے اور اس کے لئے چار سو چودہ ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جس میں سے تین سو بیس ارب روپے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے لئے مختص کیے گئے ہیں۔توانائی کے شعبے کے لئے چار سو چار ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

چین پاکستان اقتصادی راہداری کے لئے تقریباً ایک سو اسی ارب روپے رکھے گئے ہیں ۔نئے بجٹ میں آئندہ مالی سال کیلئے مجموعی قومی پیداوار کی شرح نمو چھ فیصد تجویز کی گئی ہے جو رواں سال میں پانچ اعشاریہ دو آٹھ فیصد ہے۔
آئندہ مالی سال کیلئے برآمدات میں چھ اعشاریہ چار فیصد اضافہ تجویز کیاگیا ہے جس سے برآمدات کا موجودہ سال کا اکیس ارب ستر کروڑ ڈالر کاتخمینہ بڑھ کر تئیس ارب دس کروڑ ڈالر ہوجائے گا۔درآمدی ہدف میں جو موجودہ سال کیلئے پینتالیس اعشاریہ سات ارب ڈالر ہے نو اعشاریہ چھ فیصد اضافہ تجویز کیاگیا ہے اورنئے سال کیلئے درآمدی ہدف پچاس ارب ڈالر مقرر کیاگیا ہے ۔
وزیرخزانہ نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لئے مختص رقم2013 کے چالیس ارب روپے کے مقابلے میں بڑھا کر 121ارب روپے کی جارہی ہے۔