File Photo

ڈونلڈ ٹرمپ اور مودی کی ملاقات دوران کشمیری اور سکھ برادری کا احتجاج
27 جون 2017 (08:14)
0

امریکہ میں مقیم سکھ اور کشمیری مظاہرین کی بڑی تعدادنے صدر ڈونلڈٹرمپ اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان ملاقات کے دوران وائٹ ہائوس کے باہر احتجاج کیا۔مظاہرین نے اقلیتوں پر مظالم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر بھارتی حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔
ڈاکٹر غلام نبی فائی کی زیر صدارت کشمیر سے متعلق عالمی آئینی فورم کا کہنا ہے کہ فورم کے اراکین ڈونلڈ ٹرمپ کو یاد دلانا چاہتے ہیں جنہوں نے کشمیر بھارت اور پاکستان کے درمیان ثالثی میں مدد دینے کی پیشکش کی تھی تاکہ کشمیر کی حیثیت کا تعین ہوسکے۔
غلام نبی فائی کے مطابق امریکہ، اقوام متحدہ یا کسی بھی تیسرے فریق کی جانب سے اس طرح کی ثالثی کی کوششیں شفاف انتخابات کے انعقاد کے لئے بڑی اہمیت کی حامل ہیں۔
سکھ مظاہرین کے گروپوں کا کہنا ہے کہ مودی حکومت بھارت کو ہندو ریاست بنانا چاہتی ہے اور سکھ اس کا حصہ نہیں بننا چاہتے انہوں نے کہا کہ خالصتان کا قیام سکھوں کے مسائل کا واحد حل ہے انہوں نے اس معاملے پر ریفرنڈم کرانے کا بھی مطالبہ کیا۔