وزیر خزانہ اسحق ڈار نے آئندہ مالی سال کا بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کیا۔

 مراعات اور ریلیف پر مبنی5ہزار 310ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش
26 مئی 2017 (06:48)
0

آئندہ مالی سال کے 5 ہزار تین سو دس ارب80 کروڑ روپے کے مراعات اور ریلیف پر مبنی وفاقی بجٹ کا اعلان کر دیا گیا ہے۔
وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے جمعہ کی شام اسلام آباد میں قومی اسمبلی کے اجلاس میں آئندہ سال کیلئے بجٹ تجاویز پیش کیں۔
آئندہ سال کے دوران وسائل کی دستیابی کا تخمینہ چار ہزار681 ارب20 کروڑ روپے لگایا گیا ہے، فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ذریعے ٹیکسوں کی وصولی کا تخمینہ چار ہزار13 ارب روپے لگایا گیا ہے۔
وفاقی بجٹ میں صوبوں کے حصے کا تخمینہ دو ہزار 384 ارب 20 کروڑ روپے لگایا گیا ہے جو ختم ہونے والے مالی سال کے بجٹ سے 11 اعشاریہ چھ فیصد زیادہ ہے۔
آئندہ سال کیلئے ترسیلات زر کا تخمینہ837 ارب80 کروڑ روپے ہے۔
بجٹ میں دفاعی اخراجات کیلئے920 ارب روپے سے زائد رقم مختص کی گئی ہے۔
بجٹ میں سرکاری ملازمین کے 2010کے ایڈہاک ریلیف الائونس اور مسلح افواج کے اہلکاروں کے سال2009 ء اور 2010 ء کے ایڈہاک الائونسز کو تنخواہ میں ضم کرنے کے بعد بنیادی تنخواہ پر دس فیصد ایڈہاک ریلیف الائونس دینے کی تجویز شامل ہے، مسلح افواج کے اہلکاروں کے لئے ضرب عضب الائونس اس کے علاوہ ہوگا۔
وزیر خزانہ نے پنشن میں دس فیصد اضافے کا بھی اعلان کیا ۔
کم سے کم تنخواہیں موجودہ چودہ ہزار ماہانہ سے بڑھا کر پندرہ ہزار روپے کر دی گئی ہے۔
ملازمین کی مختلف کیٹگریز کے مختلف الائونس بھی بڑھا دیئے گئے ہیں ان میں ڈیلی الائونس ریٹ میں ساٹھ فیصد اضافہ، اردلی الائونس کو بارہ ہزار سے بڑھا کر چودہ ہزار روپے، تدفین کے لئے دی جانے والی گرانٹ سولہ سو سے اڑتالیس سو اور پانچ ہزار سے بڑھا کرپندرہ ہزار روپے کی گئی ہے جبکہ کانسٹنٹ اٹینڈنٹ الائونس تین ہزار سے بڑھا کر سات ہزار روپے اور ڈیزائن الائونس میں پچاس فیصد اضافہ شامل ہے۔
پاک بحریہ کے لئے بیٹ مین الائونس اور ہارڈ لائنگ پے اور پاکستان پوسٹ کے مختلف الائونسوں میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔
فرنٹیئر کانسٹیبلری کے اہلکاروں کو ملک کے کسی بھی حصے میں تعیناتی سے قطع نظر ماہانہ آٹھ ہزار روپے کا فکسڈ الائونس دیا جائے گا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت سرکاری ملازمین کو ریلیف کے باعث ایک سوپچیس ارب روپے کا اضافی بوجھ برداشت کرے گی۔
وزیر خزانہ نے شہداء کے اہل خانہ کی فلاح کیلے نئی قومی بچت سکیم شروع کرنے کا اعلان کیا ، اس سکیم کے تحت پاکستان آرمی پولیس اور دیگر سیکورٹی اداروں کے شہداء کے ورثا کو اضافی رقم دی جائے گی۔
پاکستان بیت المال کے بجٹ میں موجودہ چار ارب روپے سے بڑھا کر چھ ارب روپے اضافہ کیا جائے گا۔
انہوں نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی طرف سے 1999 ء میں شروع کی گئی سکیم کی بحالی کا اعلان کیا جس کے تحت بیوائوں کو ہائوس بلڈنگ فنانس کارپوریشن کے زرضمانت کے تمام واجبات کی ادائیگی کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ملک کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کی تربیت کیلئے ایک ارب ڈالر مالیت کا ناقابل انتقال بانڈ بھی جاری کیا جائے گا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ سیلز ٹیکس کی مد میں تمام زیر التواء رقوم دو مرحلوں میں ادا کی جائیں گی ، دس لاکھ روپے پندرہ جولائی تک اور دیگر رقوم چودہ اگست تک ادا کی جائیں گی۔
اسحاق ڈار نے معیشت کے مختلف شعبوں کے لئے سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی سے متعلق ریلیف اقدامات کا بھی اعلان کیا ، ان میں مارکیٹنگ کمپنیوں کی طرف سے لبریکینٹ آئل پر اضافی ٹیکس کا خاتمہ، ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد پر سیلز ٹیکس کی شرح میں کمی کو مقامی طور پر تیار کردہ گاڑیوں کے برابر لانا اور رجسٹرڈ افراد کے درمیان سپلائز پر ودہولڈنگ ٹیکس کے خاتمے اور اپیل کے فیصلے تک فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی سے متعلق مقدمات میں خود کار حکم امتناعی کے اقدامات شامل ہیں۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ پولٹری کے شعبے میں استعمال کی جانے والی مختلف اقسام کی مشینری پر سیلز ٹیکس کی شرح سترہ فیصد سے کم کرکے سات فیصدکر دی گئی ہے۔
تعلیمی اداروں میں زیراستعمال ملٹی میڈیا پر پروجیکٹرز پر سیلز ٹیکس کی شرح سترہ فیصد سے کم کرکے دس فیصد کر دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ کسانوں کی سہولت کے لئے نئے اور پانچ سال پرانے ہارویسٹرز کی درآمد پر کوئی کسٹم ڈیوٹی نہیں ہوگی۔
وزیر خزانہ نے فارما اور بائیوٹیکنالوجی کے کچھ شعبوں کی کئی اشیاء پر کسٹم ڈیوٹی میں بھی کمی کا اعلان کیا ۔
گاڑیوں کے پرزوں، پنکھوں اور ظروف سازی میں استعمال ہونے والی خام ایلومینیم کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی موجودہ دس فیصد سے کم کرکے پانچ فیصد کر دی گئی ہے، بچوں کے ڈائپرز میں استعمال ہونے والے خام مال پر کسٹمز ڈیوٹی سولہ فیصد سے کم کرکے گیارہ فیصد کی جارہی ہے۔
ٹیلی مواصلات کے آلات پر نافذ گیارہ اور سولہ فیصد کسٹمز ڈیوٹی کو ختم کرکے یکساں نو فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی سے تبدیل کیا جارہا ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ نان فائلرز کے لئے معاہدوں، سیلز اور سروسز، غیر رہائشیوں کو ادائیگی،کرائے کی آمدن، پائز بانڈز، لاٹری، کمیشن، نیلام اور سی این جی اسٹیشنوں کیلئے گیس بلوں اور صنعتوں اور درآمد کنندگان کے تقسیم کاروں، ڈیلرز اور ہول سیلرز سے کاروباری معاملات پر ودہولڈنگ ٹیکس میں اضافہ کیا جائے گا۔
ڈیلرز، ڈسٹری بیوٹرز اور ہول سیلرز کے الیکٹرانک سامان پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح اعشاریہ پانچ فیصد سے بڑھا کر ایک فیصد کی جارہی ہے۔
وزیر خزانہ نے ٹیکس دہندگان کی طرف سے گاڑیوں کے اندراج پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح میں کمی کا اعلان کیا ، آٹھ سو پچاس سی سی تک گاڑیوں پر ودہولڈنگ ٹیکس دس ہزار روپے سے کم کرکے ساڑھے سات ہزار روپے ، آٹھ سو اکاون سے ایک ہزار سی سی تک کی گاڑیوں پر یہ شرح بیس ہزار روپے سے کم کرکے پندرہ ہزار روپے اور ایک ہزار ایک سی سی سے تیرہ سو سی سی تک کی گاڑیوں پر یہ شرح تیس ہزار روپے سے کم کرکے پچیس ہزار روپے کی جارہی ہے۔
نوجوانوں کے لئے وزیراعظم کی قرضہ سکیم کے تحت خریدی گئی گاڑیاں ودہولڈنگ ٹیکس سے مستثنیٰ ہوں گی۔
آئندہ مالی سال کے لئے وفاقی بجٹ میں پچیس کھرب روپے کا ترقیاتی بجٹ تجویز کیا گیا ہے جو ملک کی تاریخ میں سب سے زیادہ ہے۔
وفاقی ترقیاتی اخراجات کا تخمینہ ایک ہزار ایک ارب روپے لگایا گیا ہے جو کہ رواں مالی سال کے مقابلے میں پچیس فیصد زیادہ ہے۔
صوبوں کے مجموعی سالانہ ترقیاتی منصوبوں کا تخمینہ ایک ہزار ایک سو چالیس ارب روپے لگایا گیا ہے جو موجودہ سال کی نسبت ستائیس فیصد زیادہ ہے۔
آزاد جموں و کشمیر کے لئے فنڈز بارہ ارب روپے سے بڑھا کر بائیس ارب روپے کر دیئے گئے ہیں جس سے علاقے میں ترقی کے عمل میں تیزی کو یقینی بنایا جاسکے گا، گلگت بلتستان کو بھی اس کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے موجودہ سال کے نو ارب روپے کے مقابلے میں پندرہ ارب روپے فراہم کیے جائیں گے ، فاٹا کا ترقیاتی بجٹ اکیس ارب روپے سے بڑھا کر ساڑھے چوبیس ارب روپے کر دیا گیا ہے۔
اعلیٰ تعلیمی کمیشن کو پینتیس ارب روپے، سماجی شعبے کو ایک سو پینتیس ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں اور آئندہ مالی سال کے دوران انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے کی ترقی کے لئے خصوصی اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔
نئے بجٹ میں بنیادی ڈھانچے کے شعبے کو ترجیح دی گئی ہے اور اس کے لئے چار سو چودہ ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جس میں سے تین سو بیس ارب روپے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے لئے مختص کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے کے لئے چار سو چار ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
چین پاکستان اقتصادی راہداری کے لئے تقریباً ایک سو اسی ارب روپے رکھے گئے ہیں ۔
نئے بجٹ میں آئندہ مالی سال کیلئے مجموعی قومی پیداوار کی شرح نمو چھ اعشاریہ چار فیصد تجویز کی گئی ہے جو رواں سال میں پانچ اعشاریہ دو آٹھ فیصد ہے۔
آئندہ مالی سال کیلئے برآمدات میں چھ اعشاریہ چار فیصد اضافہ تجویز کیاگیا ہے جس سے برآمدات کا موجودہ سال کا اکیس اعشاریہ سات ارب ڈالر کاتخمینہ بڑھ کر تئیس اعشاریہ ایک ارب ڈالر ہوجائے گا۔
درآمدی ہدف میں جو موجودہ سال کیلئے پینتالیس اعشاریہ سات ارب ڈالر ہے نو اعشاریہ چھ فیصد اضافہ تجویز کیاگیا ہے اورنئے سال کیلئے درآمدی ہدف پچاس ارب ڈالر مقرر کیاگیا ہے ۔
وزیرخزانہ نے کہا ہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لئے مختص رقم2013 کے چالیس ارب روپے کے مقابلے میں بڑھا کر 121ارب روپے کی جارہی ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا سیمنٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ایک روپے فی کلو گرام سے بڑھا کر ایک روپے پچیس پیسے فی کلو گرام کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
کپڑے کی مقامی صنعت کو صحت مند مسابقتی ماحول فراہم کرنے کے لئے تجارتی مقاصد کے لئے درآمد کیے جانے والے کپڑے پر سیلز ٹیکس میں چھ فیصد تک اضافہ کیا جارہا ہے۔
سٹیل کے شعبے کے لئے بجلی کے موجودہ نرخ نو روپے فی یونٹ سے بڑھا کر ساڑھے دس روپے فی یونٹ کیے جارہے ہیں۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ ملکی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ ایک وزیراعظم اور وزیرخزانہ پانچویں مالی سال کا بجٹ پیش کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ یہ امر اس حقیقت کا عکاس ہے کہ ملک میں جمہوریت مضبوط ہوچکی ہے اور پوری قوم اس بات پر فخر کرسکتی ہے۔
وزیر خزانہ نے گزشتہ چار سال کے دوران مختلف شعبوں کی کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران مجموعی ملکی پیداوار کی شرح نمو پانچ اعشاریہ دو آٹھ فیصد رہی جو گزشتہ ایک عشرے میں بلند ترین ہے جبکہ مالی خسارہ کم ہوکر چار اعشاریہ دو فیصد رہ گیا جو دو ہزار تیرہ میں آٹھ فیصدسے زائد تھا۔
انہوں نے کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم ہیں جبکہ گزشتہ چار سال کے دوران ٹیکس وصولی کی شرح میں اکاسی فیصد اضافہ ہوا ہے، ترقیاتی مقاصد کے لئے نجی شعبے کو دیئے گئے قرضوں میں پانچ گنا اضافہ کیا گیا ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ رواں مالی سال کے دوران مشینری کی درآمد میں چالیس فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے جبکہ صنعتوں کو گیس کی فراہمی کی صورتحال بھی بہتر ہوئی، انہوں نے کہا کہ صنعتوں کے لئے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ یقینی بنایا گیا ہے جبکہ گھریلو شعبے کے لئے لوڈشیڈنگ میں بھی نمایاں کمی آئی ہے انہوں نے کہا کہ آئندہ سال تک لوڈشیڈنگ ختم ہو جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ چار سال کے دوران فی کس آمدن تیرہ سو چونتیس ڈالر سے بڑھ کر سولہ سو انتیس ڈالر ہوگئی ہے جس سے بائیس فیصد اضافہ ظاہر ہوتا ہے۔
ایف بی آر کی آمدن دو ہزار بارہ تیرہ میںمحض ایک ہزار نوسو چالیس ارب روپے تھی اور اس سال کے لئے اس کا ہدف تین ہزار پانچ سو اکیس ارب روپے مقرر کیا گیا ہے جس سے گزشتہ چار سال میں اکاسی فیصد اضافہ ظاہر ہوتا ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ درآمدات کا حجم موجودہ مالی سال کے پہلے دس ماہ کے دوران سینتیس ارب اسی کروڑ ڈالر رہا۔ انہوں نے کہا کہ درآمدات میں اضافہ مشینری اور صنعتی خام مواد کی درآمد میں چالیس فیصد اضافہ، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور چین پاکستان اقتصادی راہداری سے متعلق منصوبوں کی لاگت میں اضافے کے باعث ہوا۔
انہوں نے کہا کہ برآمدات میں پہلے دس ماہ کے دوران گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں سات اعشاریہ آٹھ فیصد کمی ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال زرمبادلہ کے ذخائر اکیس ارب روپے رہے جبکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی طرف سے بھیجی گئی ترسیلات زر کا حجم انیس ارب نوے کروڑ ڈالر رہا اور رواں مالی سال کے پہلے دس ماہ کے دوران یہ حجم پندرہ ارب ساٹھ کروڑ ڈالر رہا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ گزشتہ چار سال میں سٹاک ایکسچینج کے سرمائے کی منڈی کا حجم اکاون ارب روپے سے بڑھ کر ستانوے ارب روپے تک پہنچ گیا جس سے نوے فیصد بہتری ظاہر ہوتی ہے۔
وزیرخزانہ نے ایوان کے سامنے فنانس بل 2017-18پیش کیا ۔
انہوں نے مالی سال 2016-17کیلئے ضمنی مطالبات زر بھی ایوان میں پیش کئے۔
ایوان کا اجلاس اب پیر کو شام چار بجے ہوگا۔