وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہاکہ حکومت نے دہشتگردی کے حوالے سے اپنی پالیسی میں بنیادی تبدیلی کی ہے اور  دہشتگردوں کی قیادت کوان کے ہیڈکوارٹرزمیں نشانہ بنانے کا فیصلہ کیاگیا ہے ۔

26 فروری 2014 (20:38)
0


 وہ آج (بدھ کو)قومی اسمبلی میں ملک کی پہلی سلامتی پالیسی پیش کررہے تھے ۔ وزیراعظم نواز شریف اس موقع پر ایوان میں موجود تھے ۔ 


 


وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے قومی اسمبلی میں قومی سلامتی پالیسی پیش کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے ایک مشترکہ انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ قائم کیا جائے گا۔


 


انہوں نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کے قومی ادارے کو تمام متعلقہ وسائل سے نمٹنے کیلئے مکمل طور پر فعال بنایا جائے گا۔


 



انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر اسلام آباد میں پانچ سو اہلکاروں پر مشتمل ایک سریع الحرکت فورس تشکیل دی جائے گی اور صوبائی حکومتوں سے مشاورت کے بعد چاروں صوبوں میں بھی اس طرح کی فورس کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ انسداد دہشت گردی کی فورس کو ہیلی کاپٹروں سمیت تمام ضروری آلات سے لیس کیا جائے گا تاکہ وہ دہشت گردی سے متعلق کسی بھی واقعہ پر فوری طور پر ردعمل ظاہر کر سکے۔


 



اسی طرح سول اور مسلح افواج کے درمیان تعاون بڑھانے کیلئے داخلی سلامتی کا ایک شعبہ قائم کیا جائے گا۔دہشت گردی کے حالیہ واقعات پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ عسکریت پسندوں اور دہشت گردوں کی طرف سے دہشت گردی کی کسی بھی کارروائی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔


 



وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ تعطل کا شکار امن عمل دہشت گردی کی کارروائیاں بند ہونے کے بعد دوبارہ شروع کیا جائے گا۔


 



وزیرداخلہ نے کہا کہ قومی سلامتی پالیسی خفیہ ، اسٹرٹیجک اور آپریشنل شعبے سمیت تین حصوں پر مشتمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا مسئلہ سیاسی اتفاق رائے سے ہی حل کیا جائے گا خواہ اس کے لئے کوئی بھی راستہ اختیار کیا جائے۔ایوان پیر سے قومی سلامتی پالیسی پر بحث کا آغاز کرے گا۔


 


 


دہشت گردی کی کی حالیہ کارروائیوں پر شدیدردعمل ظاہر کرتے ہوئے چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ شدت پسندوں اور دہشت گردوں کی کسی بھی دہشت گردی کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ 


 


 


وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ تعطل کا شکار مذاکراتی عمل صرف اس صورت میں پھر شروع ہوگا کہ دوسرا فریق دہشت گردی کی کارروائیاں بند کر دے۔


 


 


انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا مسئلہ سیاسی اتفاق رائے سے حل کیا جائے گا چاہے اس کیلئے کوئی بھی طریقہ اختیار کرنا پڑے۔ ایوان پیر سے سیکورٹی پالیسی پر بحث شروع کرے گا۔


X