اردوکےممتازمصنف کواپنی خودنوشت شہاب نامہ سےشہرت حاصل ہوئی ۔

26 فروری 2014 (21:27)
0


نامورادیب قدرت اللہ شہاب کی سالگرہ بدھ 26فروری کومنائی گئی ۔قدرت اللہ شہاب (1986-1917)پاکستان کے نامور اردو ادیب اور بیورو کریٹ تھے۔ ان کی پیدائش گلگت میں ہوئی۔
 

 

 ابتدائی تعلیم انہوں نے ریاست جموں و کشمیر اور موضع چمکور صاحب ضلع انبالہ میں حاصل کی۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم -اے انگلش کیا۔ 1941 میں انڈین سول سروس میں شامل ہوئے۔ابتدا میں شہاب صاحب نے بہار اور اڑیسہ میں خدمات سرانجام دیں۔1943 میں بنگال میں متعین ہو گئے۔آزادی کے بعد حکومت آزاد کشمیر کے سیکریٹری جنرل ہوئے۔

 

 بعد ازاں پہلے گورنر جنرل پاکستان غلام محمد ، اسکندر مرزا اور پھر صدر ایوب خان کے سیکریٹری مقرر ہوئے۔ پاکستان میں جنرل یحیی خان کے بر سر اقتدار آنے کے بعد انہوں نے سول سروس سے استعفی دے دیا اور اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو سے وابستہ ہوگئے ۔

 

 انہوں نے مقبوضہ عرب علاقوں میں اسرائیل کی شرانگیزیوں کا جائزہ لینے کے لیے ان علاقوں کا خفیہ دورہ کیا اور اسرائیل کی زیادتیوں کا پردہ چاک کیا ۔ ان کی اس خدمت کی بدولت مقبوضہ عرب علاقوں میں یونیسکو کا منظور شدہ نصاب رائج ہوگیا ،جو فلسطینی مسلمانوں کی ایک عظیم خدمت تھی ۔

 

پاکستان رائٹرز گلڈ کی تشکیل انہی کی مساعی سے عمل میں آئی۔ صدر یحیی خان کے دور میں وہ ابتلا کا شکار بھی ہوئے اور یہ عرصہ انہوں نے
انگلستان کے نواحی علاقوں میں گزارا۔

 

 شہاب  ایک بہت عمدہ نثر نگار اور ادیب بھی تھے۔ ان کی تصانیف میں یاخدا، نفسانے، ماں جی اور انکی خودنوش سوانح حیات شہاب نامہ قابل ذکر ہیں۔

  اردو کے ممتاز مصنف کو اپنی خود نوشت شہاب نامہ سے  شہرت حاصل ہوئی ۔

قدرت اللہ شہاب نے 24جولائی1986کو اسلام آباد میں وفات پائی اور اسلام آباد کے سیکٹر ایچ 8کے قبرستان میں سپردِ خاک ہوئے۔