خوشبو ، صد برگ ، خود کلامی ،انکار،ماہ تمام سمیت درجنوں شعری مجموعہ کلام کی مصنفہ پروین شاکرخواتین کی انتہائی ہر دلعزیز شاعرہ تھیں ۔ 

26 دسمبر 2013 (10:57)
0

پروین شاکر کی19و یں برسی جمعرات کے روز منائی جارہی ہے


  ساحرانہ ترنم ، پھولوں اور خوشبوں کی شاعرہ ، لطیف جذبات کو لفظوں کا پیرہن دینے والی پروین شاکرکا19واں یوم وفات جمعرات کومنایا جارہاہے۔

 خوشبو ، صد برگ ، خود کلامی ، انکار ، ماہ تمام سمیت درجنوں شعری مجموعہ کلام کی مصنفہ پروین شاکر خواتین کی انتہائی ہر دلعزیز شاعرہ تھیں ۔ پروین شاکر 24نومبر1952 کو کراچی میں پیدا ہوئیں ۔ اعلی تعلیم کے حصول کے بعد پہلے وہ درس و تدریس کے شعبہ سے وابستہ ہوئیں پھر انہوںنے کسٹمز ڈیپارٹمنٹ میں اعلی افسر کی حیثیت سے کئی سال تک اپنے پیشہ وارانہ فرائض سر انجام دیئے۔


  پروین شاکر نے اپنی لا زوال شاعری میں محبت ، حسن اور عورت کو اپنا موضوع سخن بنایا۔ ان کی شاعری مختلف نشیب و فراز کا شکار رہی ۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنی شاعری میں کہیں کرب اورکبھی شگفتگی پر اظہار خیال کیا ۔ان کی شاندار خدمات پر انہیں آدم جی ایوارڈ ، پرایئڈ آف پرفارمنس اور دیگر ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔ پروین شاکر کی ازدواجی زندگی بھی مختلف اتار چڑھائو کا شکار رہی ۔

 

انہوں نے ایک ماہر طب ڈاکٹر نصیر علی سے شادی کی تاہم بعد ازاں ان میں علیحدگی ہو گئی۔ پروین شاکر ایک بیٹے مراد علی کی ماں بھی تھیں۔ لطیف جذبات کو الفاظ کا پیر ہن دینے والی خوشبوں کی نفیس شاعرہ پروین شاکر 26دسمبر 1994 کو 42سال کی عمر میں ٹریفک کے ایک حادثہ میں اپنا سفر زیست تمام کرتے ہوئے مالک حقیقی سے جا ملیں۔

 

مرحومہ کے 19ویں یوم وفات پر ملک کے مختلف شہروں میں خصوصی تقریبات ، سیمینارز، کانفرنسز، مشاعروں کا اہتمام کیا جارہاہے جس میں پروین شاکر کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیاجائیگا۔ پروین شاکر لورز فیڈریشن کے آرگنائزر عبدالرحمن نے  بتایاکہ مرحومہ کی برسی کے موقع پرجمعرات کے روز قرآن خوانی کی محافل بابرکات کا بھی اہتمام کیاگیا ہے جس میں مرحومہ و مغفورہ کی روح کو ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی بھی کی جائے گی۔