ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں خطاب کرتے ہوئے دفترخارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے گزشتہ روز میران شاہ میں امریکی ڈرون حملے کی شدید مذمت کی اور کہا یہ حملے روکے جائیں۔

26 دسمبر 2013 (20:16)
0


پاکستان نے کہا ہے کہ ڈرون حملے بین الریاستی تعلقات میں بڑی رکاوٹ ہیں اور ملک اورخطے میں امن و استحکام کے لئے حکومت کی کوششوں پر ان کا منفی اثر پڑتا ہے۔
جمعرات کے روز اسلام آباد میں ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں خطاب کرتے ہوئے دفترخارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے گزشتہ روز میران شاہ میں امریکی ڈرون حملے کی شدید مذمت کی اور کہا یہ حملے روکے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈرون حملے نقصان دہ ہیں اور یہ انسانیت اور انسانی حقوق کی خلاف وزی ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان جنیوا میں انسانی حقوق کونسل میں ڈرون حملوں کے خلاف ایک قرارداد پیش کرے گا۔
افغانستان سے فوج کے انخلاء کے بعد امریکہ کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کے بارے میں ترجمان نے کہا کہ دونوںملکوںکے درمیان کسی خاص شعبے میں نہیں بلکہ مختلف شعبوں میں تعلقات ہیں انہوں نے کہاکہ دونوں ملک دفاع ' معیشت ' بجلی اور تعلیم کے شعبوں میں پہلے ہی تعاون کررہے ہیں اور یہ تعاون جاری رہے گا۔
ترجمان نے ایک سوال کے جواب پر پاکستان اور چین کے درمیان          سول ایٹمی ٹیکنالوجی میں تعاون کے خلاف کچھ مفاد پرست عناصر کی مہم کو مسترد کردیا اور کہا کہ یہ تعاون صرف پرامن مقاصد کیلئے ہے اور ایٹمی توانائی کے بین الاقوامی ادارے اور دونوں ملکوں کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کے عین مطابق ہے۔
کشن گنگا تنازعے میں بین الاقوامی ثالثی عدالت کے فیصلے کے بارے میں ترجمان نے کہا کہ عدالت نے اپنا پہلا فیصلہ برقرار رکھا ہے جس میں دریا کے بہائو کے منصوبوں پر ایک عام اصول کی حیثیت سے انتہائی نچلی سطح پر پانی رکھنے کی ممانعت ہے۔
ترجمان نے بھارتی وزیرخارجہ کے اس بیان کا خیرمقدم کیا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت کے سوا اور کوئی راستہ نہیں ہے انہوں نے کہا دونوں ملکوں کے درمیان دیرینہ مسائل کے حل کیلئے آگے بڑھنے کا واحد راستہ مذاکرات ہیں اور ان مسائل کے حل سے ہی خطے میں پائیدار امن قائم ہوسکتا ہے۔