نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان خطے کے عوام کی خواہشات کو پورا کرنے اپنا کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہے۔

پاکستان خطے کا معاشی منظرنامہ تبدیل کرنے کیلئے سارک ملکوں کیساتھ مل کر کام کرنے کیلئے پرعزم ہے: وزیراعظم
26 اگست 2016 (11:46)
0

وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان خطے کا معاشی منظرنامہ تبدیل کرنے اور اس کے عوام کو غربت،ناخواندگی اور دیگر سماجی مسائل سے نجات دلانے کیلئے سارک رکن ملکوںکے ساتھ مل کر کام کرنے کیلئے پرعزم ہے۔وہ آج اسلام آباد میں سارک وزراء خزانہ کے آٹھویں اجلاس کا افتتاح کررہے تھے۔

وزیراعظم نے کہاکہ تین عشروں قبل جنوبی ایشیا کی قیادت نے اقتصادی شرح نمواور سماجی ترقی کو تیزکرنے اور ہمارے خطے کی ثقافتی ترقی کے لئے عزم ظاہر کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے کے عوام کی خواہشات کو پورا کرنے اپنا کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہے۔

اپنے خطبہ استقبالیہ میں وزیر خزانہ اسحق ڈار نے کہا کہ جنوبی ایشیائی خطہ وسائل سے مالا مال ہے اور اس خطے میں اپنے لوگوںکی ترقی کی ضرورتوں کو پورا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ عوام کی سماجی اور اقتصادی ترقی کی غرض سے ان وسائل کو بروئے کار لانے کے لئے مشترکہ حکمت عملیاں ہی آگے بڑھنے کا راستہ ہیں۔انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ جنوبی ایشیا اقتصادی اتحاد سے علاقائی ملکوں کے درمیان اقتصادی تعاون سرمایہ کاری اور روابط کو فروغ ملے گا۔انہوں نے کہا کہ سارک ملکوں کے رہنمائوںنے بارہا وسیع تر اقتصادی روابط اور تعاون پر زوردیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ اس حوالے سے نمایاں پیشرفت کی گئی ہے تاہم نان ٹیرف رکاوٹیں دورکرنے اور طریقہ کار کو آسان بنانے کی ضرورت ہے تاکہ تجارت، سرمایہ کاری اور توانائی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھایا جاسکے۔اسحق ڈار نے کہا کہ آج کے اجلاس میں جن تجاویز کو حتمی شکل دی گئی ہے انہیں نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والے سارک سربراہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سارک کے سیکرٹری جنرل ارجن بہادر تھاپہ نے کہاکہ جنوبی ایشیائی خطہ علاقائی اقتصادی طاقت بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔انہوںنے کہاکہ گزشتہ سارک سربراہ اجلاس کے بعدسے تنظیم کے رکن ملکوں کے درمیان اقتصادی تعاون مضبوط بنانے کیلئے نمایاں پیشرفت کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ سارک ملکوں کے رہنمائوں نے جنوبی ایشیائی اقتصادی اتحاد کے قیام کا اہم ہدف مقرر کیا ہے جورکن ملکوں کے درمیان وسیع تر روابط کا متقاضی ہے۔

انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ وزرائے خزانہ کے اجلاس سے جنوب ایشیائی اقتصادی اتحاد کے عمل کو نئی تقویت ملے گی۔