بنک کا صدر دفتر بیجنگ میں ہو گا اور یہ بین الحکومتی علاقائی ترقی کا ادارہ کہلائے گا جو ایشیائی خطے میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لئے امداد دے گا۔

پاکستان سمیت21 ملکوں کے ایشین انفراسٹرکچرانوسٹمنٹ بنک کےقیام کیلئےمفاہمتی یادداشت پردستخط
25 اکتوبر 2014 (14:15)
0

پاکستان سمیت اکیس ملکوں نے ایشین انفراسٹرکچر انوسٹمنٹ بنک کے قیام کیلئے مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کئے ہیں۔دستخطوں کی تقریب چین کے دارالحکومت بیجنگ میں منعقد ہوئی جس میں پاکستان کی نمائندگی وزیر خزانہ اسحق ڈار نے کی۔


اس بنک کا صدر دفتر بیجنگ میں ہو گا اور یہ بین الحکومتی علاقائی ترقی کا ادارہ کہلائے گا جو ایشیائی خطے میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لئے امداد دے گا۔ یہ بنک اگلے سال کے آخر تک باضابطہ طور پر کام شروع کر دے گا۔دستخطوں کی تقریب کے بعد اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر خزانہ اسحق ڈار نے کہا کہ اس بنک کے قیام سے خطے میں ڈھانچہ جاتی خسارے پر قابو پانے پر توجہ مرکوز کرنے کے وسیع مواقع میسر آئیں گے۔


انہوں نے کہا کہ یہ بنک خطے میں دستیاب کثیر وسائل کو سرمایہ کاری میں تبدیل کرنے کیلئے ایک اہم پلیٹ فارم ثابت ہو گا۔وزیر خزانہ نے کہا کہ ایشین انفراسٹرکچر انوسٹمنٹ بنک عالمی بنک ،ایشیائی ترقیاتی بنک اور دوسرے کثیر الجہتی اور دوطرفہ ترقی کے اداروں کے ساتھ مل کر کام کرے گا تاکہ ترقیاتی چیلنجوں سے عہدہ برآء ہونے کے لئے علاقائی تعاون اور شراکت داری کو فروغ دیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ چین کی قیادت کا یہ ایک اہم اقدام ہے جس کی نہ صرف پاکستان بلکہ بہت سے دوسرے ملکوں نے بھی حمایت کی۔
پاکستان اور چین کے علاوہ ایشین انفراسٹرکچر انوسٹمنٹ بنک کے دوسرے ارکان میں بنگلہ دیش ، برونائی دارالسلام ، کمبوڈیا ، بھارت ، قزاخستان ، کویت ،عوامی جمہوریہ لاؤس، ملائیشیا ، منگولیا ، میانمار ، نیپال ، اومان ، فلپائن ، قطر ، سنگاپور ، سری لنکا ، تھائی لینڈ ، ازبکستان اور ویتنام شامل ہیں۔