ماہی گیری کی سرگرمیوں میں ہونے والے اضافے سے روزگار کے لاکھوں نئے مواقع پیدا ہوںگے


 

25 نومبر 2013 (13:20)
0

بلوچستان کے ساحلوں سے حاصل ہونے والی مچھلی کی مقدار میں 9 فیصد سے زائد اضافہ ہواہے تاہم اب بھی پیداوار میں 50فیصد سے زائد اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ مچھلی کی پیداوار میں ہونے والے اضافہ سے مقامی ضروریات کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ برآمدات کے فروغ سے قیمتی زر مبادلہ کے حصول میں بھی اضافہ ہوگا۔ فشریز حکام نے کہا ہے کہ سال 2012ء کے دوران بلوچستان کے ساحلی علاقوں سے ایک لاکھ 47 ہزار ٹن مچھلیاں پکڑی گئی ہیں جبکہ سال 2011ء کے دوران ایک لاکھ 35 ہزارٹن مچھلیاں پکڑی گئی ہیں۔



اس طرح گذشتہ سال کے دوران پیداوار میں نو فیصد تک کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ماہی پروری کے ماہرین وبرآمد کنندگان نے کہا ہے کہ بلوچستان کے ساحلوں سے تین لاکھ ٹن تک مچھلی کی پیداوار حاصل کی جاسکتی ہے۔ ماہی گیری کی سرگرمیوں میں ہونے والے اضافے سے روزگار کے لاکھوں نئے مواقع پیدا ہوںگے جس سے صوبہ سے بے روزگاری کے خاتمہ میں بھی مدد ملے گی۔



صوبہ میں مچھلی کی پیداوار اضافہ بنیادی وجہ میں امن وامان کی صورتحال میں ہونے والی بہتری کے ساتھ ساتھ ساحلوں سے مچھلیاں پکڑنے کیلئے جدید معیار کی فشنگ بوٹس اور جال ہیں۔ اس وقت صوبہ کے سات ہزار سے زائد کشتیاں مچھلیاں پکڑنے کیلئے استعمال کی جا رہی ہیں جبکہ مچھیروں کی تربیت سے بھی ان کی کارکردگی میں اضافہ ہوا ہے۔ شعبہ کے ماہرین نے کہا ہے کہ گوادار اور پسنی کے ساحلی علاقوں میں امن وامان کی صورتحال بہتر ہونے کی وجہ سے مچھلیوں کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے۔ گوادر پورٹ پر تجارتی سرگرمیوں کے فروغ سے بھی صورتحال میں نمایاں بہتری ہوئی ہے۔



انہوں نے کہاکہ سال 2012ء کے دوران گوادر اور پسنتی کے ساحلی علاقوں سے حاصل ہونے والی پیداوار صوبے کی مچھلی کی مجموعی پیدوار کے 45 فیصد کے مساوی ہے اور رواں سال بھی گوادار اور پسنی کے ساحلی علاقوں میں ماہی گیری کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے جس سے توقع ہے کہ رواں سال کے دوران بھی یہاں سے اچھی خاصی مقدارمیں مچھلیاں پکڑی جائیں گی۔ اس کے علاوہ بلوچستان کے دیگر ساحلی علاقوں ڈمپ، گڈانی، جیوانی، سربندر سمیت دیگر ساحلی علاقوں میں بھی ماہی گیری کی سرگرمیوں میں اضافہ ریکارڈکیا گیا ہے۔ شعبہ کے ماہرین نے کہا کہ سال 2013ء کے دوران صوبہ بلوچستان کے ساحلی عالقوں سے ایک لاکھ 55 ہزار ٹن سے زائد مچھلی کی پیداوار حاصل ہوگی۔



صوبے سے حاصل ہونے والی مچھلی کی مجموعی پیداوار کار 10 فیصد حصہ مقامی طور پر استعمال کیا جاتا ہے جبکہ 20فیصد تک کراچی بھیجا جاتا ہے جبکہ 70 تا 80
فیصد پیدوار براہ راست برآمد کی جاتی ہے۔ صوبہ میں 55 تا 60 ہزار افراد ماہی گیری کے شعبہ سے منسلک ہیں جن میں 60 فیصد کی مستقل بنیادوں پر ماہی گیری کی صنعت سے وابستہ ہیں۔ صوبہ میں ماہی گیری کی صنعت کے فروغ کے حوالے سے انٹرنیشنل فنڈ فار ایگری کلچر ڈیپارٹمنٹ کے تعاون سے منصوبہ پر کام کیا جا رہا ہے جس پر 35.5 ملین ڈالر لاگت آئے گی۔ بلوچستان میں 750 کلو میٹر طویل ساحلی پٹی ماہی گیری کی صنعت کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کر سکتی ہے۔ شعبہ کے فروغ سے بے روزگاری کے خاتمہ کے ساتھ ساتھ حاصل ہونے والے زر مبادلہ کی مدد سے صوبہ کی ترقی وخوشحالی کے نئے منصوبے بھی مکمل کئے جا سکیںگے جس سے معیشت کے استحکام میں مدد ملے گی۔