Wednesday, 26 June 2019, 08:57:15 pm
معیشت آئندہ 6سے 12ماہ میں مستحکم ہو جائے گی،مشیر خزانہ
May 25, 2019

خزانے کے بارے میں وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ معیشت آئندہ چھ سے بارہ ماہ کے دوران بحالی اور تیز تر ترقی کے مرحلے میں جانے سے قبل مستحکم ہو جائے گی۔انہوں نے یہ بات آج سہ پہر حکومتی اقتصادی ٹیم کے ہمراہ ایک نیوز کانفرنس میں اقتصادی لائحہ عمل کا اعلان کرتے ہوئے کہی۔منصوبہ بندی کے وزیر خسرو بختیار، توانائی کے وزیر عمر ایوب ، محاصل کے وزیر مملکت حماد اظہر، ایف بی آر کے چیئرمین شبرزیدی اور معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان ان کے ہمراہ تھیں۔پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو اقتدار میں آنے کے بعد جس اقتصادی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا اس کا جائزہ پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ موجودہ حکومت کو اکتیس ہزار ارب روپے کے ملکی اور سو ارب ڈالر سے زائد کے غیر ملکی قرضے ورثے میں ملے۔انہوں نے کہا کہ غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر دس ارب ڈالر سے کم ہیں جبکہ گزشتہ پانچ برس میں برآمدات میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔انہوں نے کہا کہ تجارتی خسارہ بیس ارب ڈالر جبکہ مالی خسارہ تئیس سو ارب روپے تک پہنچ گیا۔اس کے علاوہ گردشی قرضے میں ہر ماہ اڑتیس ارب روپے کا اضافہ ہورہا ہے۔مشیر خزانہ نے کہا کہ حکومت نے معیشت کو مستحکم کرنے کیلئے دوست ممالک کے ذریعے نو ارب ڈالر کی رقم حاصل کرنے کے علاوہ مختلف اقدامات کئے۔حکومت کے آئندہ اقدامات کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ عالمی مالیاتی فنڈ کا بورڈ معاہدے کی آئندہ چند ہفتوں میں منظوری دے گا جس پر پاکستان پہلے ہی دستخط کرچکا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے متعارف کرائی جانے والی ایمنسٹی سکیم سے لوگوں کو انتہائی مناسب نرخوں پر اپنے خفیہ اثاثے ظاہر کرنے اور باضابطہ معیشت کا حصہ بننے کا موقع ملے گا۔

ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا کہ حکومت ایشیائی ترقیاتی بینک اور دیگر مالیاتی اداروں سے دو سے تین ارب ڈالر قرضہ لے سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس ترقیاتی بینک سے ایک ارب بیس کروڑ ڈالر کی موخر قرضوں کی سہولت بھی اگلے سال سے شروع ہو جائے گی اور اس سے ہماری معیشت پر اعتماد میں اضافہ ہوگا۔آئی ایم ایف پروگرام کے حوالے سے ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے پر دستخط سے دنیا بھر میں اس بارے میں اچھا تاثر پیدا ہوگا کہ پاکستان منظم انداز میں اپنی معیشت کا انتظام کررہا ہے۔مشیر خزانہ نے کہا کہ آئندہ بجٹ کفایت شعاری پر مبنی ہوگا ، آمدنی میں اضافے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ایف بی آر پانچ ہزار پانچ سوپچاس ارب روپے کا ہدف مقرر کرے گا۔انہوں نے کہا کہ تین سوپچاس کمپنیاں پاکستان میں پچاسی فیصد ٹیکس ادا کررہی ہیں ۔ صرف بیس لاکھ پاکستانی ٹیکس گوشوارے جمع کراتے ہیں جن میں سے چودہ لاکھ تنخواہ دار افراد ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ نئے اعدادوشمار حاصل کئے جائیں گے تاکہ ٹیکس دہندگان کی شناخت کی جاسکے اور انہیں ٹیکس کے دائرہ کار میں لایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ اٹھائیس ملکوں سے ڈیڑھ لاکھ پاکستانیوں کے کوائف حاصل کئے گئے ہیں اور اس سے ٹیکس نادہندگان کا تعین کرنے میں مددملے گی۔ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا کہ عوام کو افراط زر کے اثرات سے محفوظ رکھنے کیلئے حکومت بجلی کے ماہانہ تین سو یونٹ سے کم استعمال کرنے والے صارفین کیلئے دو سو سولہ ارب روپے مختص کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ گیس کے چھوٹے صارفین کو بھی اس قسم کے پروگرام کے ذریعے تحفظ دیا جائے گا۔ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا کہ احساس پروگرام کے تحت رقوم کی منتقلی سو ارب روپے سے بڑھا کر ایک سو اسی ارب کردی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ سابق فاٹا میں ترقی کیلئے 46 ارب روپے مختص کئے جائیں گے۔مشیر خزانہ نے کہا کہ حکومت نے رمضان میں عوام کی سہولت کیلئے دو ارب روپے کی سبسڈی دی ہے اور آئندہ بجٹ میں خوراک کی سبسڈی میں تیس ارب روپے کی سبسڈی دی جائے گی۔

ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا کہ کم اقتصادی شرح نمو کے باوجود موثر پالیسیوں کے ذریعے نوکریاں فراہم کی جاسکتی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر کے آزمائشی پروگرام سے ملحقہ اٹھائیس شعبوں میں روزگار کے موقع پیدا ہوسکتے ہیں۔مشیر خزانہ نے کہا کہ کامیاب جوان پروگرام حکومت کا ایک اور پروگرام ہے جو ایک سو ارب روپے کے بجٹ کے ساتھ نوجوانوں کو اپنا کاروبار شروع کرنے کے قابل بنائے گا۔انہوں نے کہا کہ آئندہ بجٹ میں روزگار کی فراہمی کیلئے زرعی شعبے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا کہ آئندہ بجٹ میں ہماری توجہ تجارت کی بجائے منیوفیکچرنگ پر ہوگی کیونکہ اس سے لوگوں کیلئے روزگار کے زیادہ مواقع پیدا ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آئندہ بجت میں نجی شعبے کو نئی بھرتیاں کرنے پر ٹیکسوں میں چھوٹ دے کر نئی ملازمتیں فراہم کرنے کی ترغیب دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ جاری ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کیلئے وزارت منصوبہ بندی کو سرکاری شعبے کے ترقیاتی پروگرام کے نو سو پچیس ارب روپے دیئے جائیں گے۔