Sunday, 26 May 2019, 06:10:24 am
پاکستان کرتارپور راہداری پر عملدرآمد کیلئے پرعزم ہے،دفتر خارجہ
April 25, 2019

پاکستان نے ایسٹر کے موقع پر ہونے والے المناک حملوں کےتناظر میں سری لنکا کو ہر ممکن حمایت اور تعاون کی پیشکش کی ہے۔

دفترخارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے آج اسلام آباد میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ سری لنکا میں مقیم تمام پاکستانی محفوظ ہیں اورکسی کی ہلاکت کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔ انہوں نے کہا کہ دھماکوں میں زخمی ہونے والی تین پاکستانی خواتین اب صحت یاب ہوگئی ہیں اور انہیں ہسپتال سے فارغ کردیاگیا ہے۔

 دفترخارجہ کے ترجمان نے ایران میں دیئے گئے وزیراعظم کے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان غیر ریاستی عناصر کے حوالہ دے رہے تھے جو غیرملکی اثرورسوخ کےتحت پاکستانی سرزمین استعمال کرکے ملک کے اندر کارروائیاں کرتے ہیں یا پاکستان میں اس کی منصوبہ بندی کرتے ہیں  جیسا کہ کلبھوشن یادیو اور مقامی سہولت کاروں  کا معاملہ ہے۔

ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے سے متعلق انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں نے منصوبے پر عملدرآمد کےلئے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

بھارت کی طر ف سے  کشمیر کی سرحد پر تجارت کی معطلی کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ دونوں ہمسایہ ملکوں کے درمیان تجارت اور اعتماد سازی کے دوسرے اقدامات اہم ہیں اور بھارت کا تجارت روکنے کا فیصلہ افسوسناک ہے۔

بھارت کی طر ف سے کشمیر کی سرحد پر تجارت کی معطلی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دونوں ہمسایہ ملکوں کے درمیان تجارت اور اعتماد سازی کے دوسرے اقدامات اہم ہیں اور بھارت کا تجارت بند کرنے کا فیصلہ افسوسناک ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کرتارپور راہداری پر عملدرآمد کے لئے پرعزم ہے اور اس سلسلے میں بھارت کے ساتھ آئندہ اجلاس کامنتظر ہے۔کشمیر یوںکی حالت زار اور حریت رہنمائوں کی نظربندی و حراست پر پاکستان کی شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین یاسین ملک پر من گھڑت الزامات عائد کرکے ان کی گرتی ہوئی صحت کے باوجود ان کی مسلسل نظربندی کی مذمت کرتا ہے۔ڈاکٹر محمد فیصل نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے بارے میں ذرائع ابلاغ کے بعض اداروں کی طر ف سے ان کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرنے پر افسوس کااظہار کیا۔انہوں نے کہاکہ ہم ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور ان کے خاندان کے ساتھ رابطے میں ہیں اور ہم انہیں پاکستان واپس لانے کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے میں کوئی فائرنگ رینج تعمیر نہیں کیا جارہا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کی فائرنگ رینج سہولت بہتر بنانے کیلئے امریکی سفارتخانہ اور اسلام آباد پولیس ایک دوسرے سے تعاون کررہے ہیں۔